اوگی کے نواحی گاؤں پھگوڑہ (یوسی بانڈی شنگلی) میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں زہریلا جنگلی ساگ کھانے کے باعث ایک ہی خاندان کے دو نوجوان بھائی جاں بحق ہوگئے، جبکہ تین خواتین سمیت چار افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
📍 واقعے کی تفصیل:
ذرائع کے مطابق ابرار نامی شخص اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ تفریحی مقام پنجہ گلی کی سیر کے لیے گیا تھا۔ دورانِ سیر انہوں نے پہاڑی علاقے سے جنگلی ساگ اکٹھا کیا اور اسے پکا کر کھانے میں استعمال کیا۔
تاہم یہ ساگ زہریلا ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں تمام افراد کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور انہیں شدید نوعیت کی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔
🚑 امدادی کارروائی:
مقامی افراد نے فوری طور پر متاثرہ فیملی کو قریبی ہسپتال منتقل کیا، تاہم ابرار موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس کا بھائی وقار کئی گھنٹوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ہسپتال میں جاں بحق ہوگیا۔
🏥 متاثرین کی حالت:
باقی متاثرہ افراد، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں، ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے بعض کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
🗣️ مقامی ردعمل:
علاقے کی سماجی شخصیت محمد ساجد کے مطابق متاثرہ خاندان کے دیگر افراد کی جان بچا لی گئی ہے، تاہم ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
⚠️ اہم احتیاطی پیغام:
ماہرین کے مطابق پہاڑی علاقوں سے غیر شناخت شدہ جنگلی پودوں یا ساگ کو کھانے میں استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ ایسے پودوں کے استعمال سے گریز کریں یا پہلے مکمل تصدیق کریں۔
🚨 اوگی میں افسوسناک واقعہ: زہریلا ساگ کھانے سے دو بھائی جاں بحق، متعدد افراد تشویشناک 🚨
21