پشاور میں لاپتہ ہونے والی بچی کے کیس میں ایک انتہائی حساس اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق معاملہ اغوا کا نہیں بلکہ مبینہ طور پر خاندانی سطح پر فروخت کا ہو سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر اس کی والدہ کی جانب سے صدام نامی شخص کے ذریعے 8 لاکھ روپے کے عوض ایک فرد کو فروخت کیا گیا۔ بعد ازاں اسی شخص نے مبینہ طور پر بچی کو مزید 14 لاکھ روپے کے عوض کسی دوسرے فرد کے حوالے کیا، جہاں اس کا نکاح بھی کروائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق اس پورے معاملے میں راولپنڈی میں مقیم باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صدام خان نامی شخص کا مرکزی کردار بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مبینہ ڈیل میں خاندان کے بعض دیگر افراد کو بھی معلومات تھیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدام نامی شخص نے مبینہ طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بعد میں بچی کو واپس پہنچا دے گا، تاہم بعد ازاں صورتحال تبدیل ہو گئی اور معاملہ پیچیدہ شکل اختیار کر گیا۔ اسی دوران فریقین کے درمیان تنازع اور اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ابتدائی ملاقات اور مبینہ ڈیل راولپنڈی کے علاقے میں ایک کرائے کے مکان میں ہوئی تھی، جہاں بچی کی والدہ کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
تاحال یہ تمام معلومات ابتدائی اور غیر مصدقہ ذرائع سے سامنے آئی ہیں، جبکہ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بچی کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو تمام ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پشاور: لاپتہ بچی سے متعلق تشویشناک انکشاف، مبینہ طور پر خاندان کی جانب سے فروخت کا معاملہ سامنے.
16