مانسہرہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف کارروائیاں، تین ایس ایچ اوز معطل.

20

مانسہرہ میں غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ اور ٹمبر مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ حالیہ دنوں موٹروے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مختلف علاقوں میں اسمگلنگ کے خلاف آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا جہاں ایک مقامی شہری جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد معاملے نے مزید سنگین صورت اختیار کر لی۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد بھی مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری رہیں اور کئی مشتبہ گاڑیوں اور افراد کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ڈی آئی جی کی ہدایت پر ایک خصوصی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
انکوائری کمیٹی کی ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق مانسہرہ کے تین مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز مبینہ طور پر غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ میں سہولت کاری میں ملوث پائے گئے۔ ان الزامات کے بعد تینوں پولیس افسران کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب ضلع مانسہرہ میں گزشتہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران مختلف واقعات میں 25 سے 30 افراد کی اموات رپورٹ ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پولیس کی توجہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے بجائے دیگر معاملات پر مرکوز دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث جرائم اور بدامنی کے واقعات میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
ماہرین ماحولیات اور سماجی حلقوں نے بھی جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ماحولیات، جنگلی حیات اور قدرتی توازن کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیفاریسٹیشن کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او مانسہرہ فوری پریس کانفرنس کرکے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کریں، شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور قانون کی بالادستی قائم رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں