خیبر پختونخوا حکومت نے محکمانہ احتساب کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اہم کارروائی میں سابق ڈی ای او (فیمیل) نوشہرہ سمیت مختلف افسران اور اہلکاروں کو سروس سے برطرف کر دیا ہے۔
📄 انکوائری مکمل، شواہد کی بنیاد پر فیصلہ
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ افسران کے خلاف جاری محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ انکوائری کمیٹی نے شواہد اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد برطرفی کی سفارش کی، جس پر حکومت نے عمل درآمد کیا۔
⚖️ احتساب اور شفافیت کی پالیسی
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری اداروں میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
📌 مزید کارروائی کا امکان
ذرائع کے مطابق اس کیس سے جڑے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اگر مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
📢 عوامی اعتماد کی بحالی کا عزم
حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد عوامی اعتماد کو بحال کرنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
🚨 خیبر پختونخوا حکومت کا بڑا ایکشن — سابق ڈی ای او (فیمیل) نوشہرہ سمیت متعدد افسران برطرف.
32