مانسہرہ میں LTV ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق ایک معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس میں ایک ہی لائسنس کے بارے میں مختلف سرکاری ادارے متضاد مؤقف اختیار کر رہے ہیں، جس نے انتظامی نظام اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
📄 معاملے کی تفصیلی صورتحال
متعلقہ لائسنس 2018 میں جاری کیا گیا تھا، جو کئی سال تک سرکاری ڈیجیٹل ریکارڈ میں فعال (Active) ظاہر ہوتا رہا۔ تاہم بعد ازاں:
2023 میں اس کی تجدید (Renewal) روک دی گئی
2026 میں HTV اپگریڈیشن کے لیے درخواست مسترد کر دی گئی
معاملہ اب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مانسہرہ تک پہنچ گیا ہے
🚫 شہری کو پیش آنے والی مشکلات
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ مسلسل دفاتر کے چکر، غیر واضح پالیسی اور متضاد ریکارڈ کی وجہ سے انہیں مالی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
🏢 محکمہ ٹرانسپورٹ کا مؤقف
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق 2017 کے بعد لائسنس جاری کرنے کا اختیار ان کے پاس تھا، اور 2018 کا مذکورہ لائسنس غیر مجاز اتھارٹی سے جاری ہونے کا امکان ہے۔
🚔 پولیس لائسنس برانچ کا مؤقف
دوسری جانب پولیس لائسنس برانچ کا کہنا ہے کہ تمام ریکارڈ، ہسٹری شیٹ اور کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا میں لائسنس کی مکمل تصدیق موجود ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔
⚖️ قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق ایک ہی سرکاری ریکارڈ پر مختلف اداروں کی متضاد تشریحات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ڈیجیٹل سسٹم اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں واضح خامیاں موجود ہیں۔
📌 معاملہ زیرِ تفتیش
ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مانسہرہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کیا جا رہا ہے۔
🚨 مانسہرہ LTV لائسنس اسکینڈل — سرکاری اداروں کے درمیان ڈیٹا تضاد پر تنازع شدت اختیار کر گیا.
32