ٹیکسلا کا دریائے ہرو: بہتی جنت سے ویرانی تک ایک دردناک داستان.

26

ٹیکسلا: دریائے ہرو کبھی اس خطے کی خوبصورتی، ٹھنڈک اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں ٹیکسلا کے احاطہ ریلوے پل کے نیچے سے بہنے والا یہ دریا صاف، شفاف اور ٹھنڈے پانی سے لبریز رہتا تھا۔ یہ منظر کسی قدرتی جنت سے کم نہ تھا—جہاں لوگ سیر کے لیے آتے، بچے نہاتے، نوجوان مچھلیاں پکڑتے اور کناروں پر زندگی پوری آب و تاب سے نظر آتی تھی۔
یہ دریا گلیات اور خانپور کے پہاڑی علاقوں سے نکلنے والے پانی سے بنتا تھا۔ پانی خانپور ڈیم اور ترناوا پل کے نیچے سے گزرتا ہوا ٹیکسلا تک پہنچتا اور پھر آگے بہتا چلا جاتا تھا۔ پانی کی شفافیت کا یہ عالم تھا کہ نیچے موجود پتھر اور تیرتی مچھلیاں صاف دکھائی دیتی تھیں۔
دریائے ہرو میں مختلف اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی تھیں، جنہیں مقامی زبان میں “دھمراہ” اور “ارُوئی” کہا جاتا تھا۔ ماہی گیر یہاں بڑی تعداد میں آتے اور شام کے وقت جب سورج غروب ہوتا اور اوپر سے ٹرین پل عبور کرتی تو منظر انتہائی دلکش ہو جاتا تھا۔
اس دور میں علاقے کا ماحول بھی نہایت خوشگوار تھا—بارشیں زیادہ، جنگلات گھنے، زمینیں زرخیز اور آبادی کم تھی۔ زیرِ زمین پانی وافر مقدار میں دستیاب تھا اور کنوؤں و چشموں سے آسانی سے پانی مل جاتا تھا۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ ایوب خان کے دور میں جب اسلام آباد کو پانی فراہم کرنے کے منصوبے شروع ہوئے تو اس دریا کے بہاؤ کا بڑا حصہ شہر کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس کے بعد دریا میں پانی کی مقدار بتدریج کم ہوتی گئی۔
دوسری جانب جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبادی میں تیز اضافہ، بارشوں میں کمی، زرعی زمینوں کا خاتمہ اور فیکٹریوں کے آلودہ فضلے نے اس دریا کو مزید تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی نیچے چلی گئی، جس سے مقامی زندگی شدید متاثر ہوئی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ جہاں کبھی پانی رواں دواں تھا، وہاں اب خشک پتھر اور خاموشی نظر آتی ہے۔ نہ وہ مچھلیاں باقی رہیں، نہ وہ رونق، نہ ہی وہ قدرتی حسن۔ دریائے ہرو جو کبھی ٹیکسلا کی پہچان تھا، آج ایک ویران یاد بن چکا ہے۔
یہ صرف ایک دریا کا خشک ہونا نہیں، بلکہ ایک مکمل قدرتی نظام، ثقافت اور یادوں کا بکھر جانا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسی کئی اور قدرتی نعمتیں بھی تاریخ کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں