ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کو تیسری شادی کے بعد انتہا پسند ہندو حلقوں کی جانب سے شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں ان کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا گیا اور سخت دھمکیاں دی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایودھیا سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندو رہنما جگد گرو پرمھانس اچاریہ نے ایک انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے مبینہ طور پر عامر خان کو قتل کرنے والے شخص کے لیے 5 کروڑ بھارتی روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ رہنما نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایسے کسی شخص کے قانونی اخراجات برداشت کریں گے، جبکہ ہندو فلمی شائقین سے عامر خان کی فلموں کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی۔
یہ تنازع عامر خان کی حالیہ شادی کے بعد شدت اختیار کر گیا۔ اداکار نے اپنی دیرینہ دوست گوری سپراٹ سے 5 جولائی کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں اپنی رہائش گاہ پر ایک سادہ تقریب میں شادی کی، جس میں صرف قریبی اہلِ خانہ اور دوست شریک ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق گوری سپراٹ برطانیہ میں مقیم ایک تامل نژاد خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ ان کے خاندانی پس منظر کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث جاری ہے، جہاں متعدد صارفین نے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عامر خان کے خلاف قتل پر انعام کا اعلان، انتہا پسند ہندو رہنما کا اشتعال انگیز بیان.
32