مکہ مکرمہ: نزولِ وحی کے ابتدائی دور میں، جب کاغذ عام استعمال میں نہیں تھا اور قرآنِ کریم کو باقاعدہ ایک مصحف کی شکل میں جمع نہیں کیا گیا تھا، اس وقت کاتبانِ وحی قرآنِ کریم کی آیات مختلف قدرتی اور دستیاب اشیاء پر تحریر کرتے تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق قرآنِ کریم کی آیات کو محفوظ رکھنے کے لیے چمڑا (ادیم)، کھجور کی شاخیں، لکڑی کے ٹکڑے، پتھر اور جانوروں کی ہڈیاں، خصوصاً کندھے اور پسلیوں کی ہڈیاں استعمال کی جاتی تھیں۔ یہ تمام ذرائع اس دور میں کتابت کے اہم وسائل سمجھے جاتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان تمام ذرائع میں چمڑا (ادیم) سب سے زیادہ استعمال ہوتا تھا، کیونکہ یہ مضبوط، پائیدار اور تحریر کو محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا تھا۔ جانوروں کی کھال کو دباغت کے عمل سے گزار کر لکھنے کے قابل بنایا جاتا، جس کے بعد اس پر قرآنی آیات تحریر کی جاتیں۔
مکہ مکرمہ کے ثقافتی مقام حیِ حراء میں قائم قرآنِ کریم میوزیم میں ان تاریخی ذرائع کے نمونے محفوظ کیے گئے ہیں۔ میوزیم میں موجود نوادرات اور معلوماتی مواد زائرین کو اس دور کی کتابت، کاتبانِ وحی کی خدمات اور قرآنِ کریم کے تحفظ کے ابتدائی مراحل سے آگاہ کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تاریخی شواہد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نزولِ وحی کے آغاز ہی سے قرآنِ کریم کی آیات کو انتہائی اہتمام کے ساتھ محفوظ کیا جاتا رہا، جو بعد ازاں ایک مکمل مصحف کی صورت میں جمع کی گئیں۔
کاغذ سے پہلے قرآنِ کریم کی آیات کن چیزوں پر لکھی جاتی تھیں؟ تاریخی حقائق سامنے آگئے.
36