امریکا اور ایران کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل، تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ.

24

یورپین کونسل آن فارن ریلیشنز (ECFR) سے وابستہ ماہر ایلی گیرانمائے نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں کسی بھی غلط اندازے کے سنگین علاقائی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ماہر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فضائی حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث سفارتی حل کی راہ دشوار ہوتی جا رہی ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس تنازع سے متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔
ایلی گیرانمائے کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکا اور ایران دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صورتحال پر قابو رکھے ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے کشیدگی کو حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، تاہم کسی بھی غلط اندازے سے تنازع بے قابو ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے الزامات کے بعد یہ کشیدگی ایک زیادہ سخت اور پرتشدد مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ماہر نے اس صورتحال کا موازنہ سال کے آغاز میں ہونے والی 40 روزہ جنگ سے کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی توانائی تنصیبات، بندرگاہوں، پلوں اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں