پشاور: ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پشاور نے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے قائم پروٹیکٹر آفس میں مبینہ کرپشن اور ایجنٹ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر سمیت متعدد اہلکاروں کو تفتیش کے دائرے میں لے لیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف آئی اے اینٹی کرپشن پشاور سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر رانا شاہد حبیب نے بتایا کہ وفاقی اداروں میں سرگرم ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک روزگار کے لیے پروٹیکٹر کے نظام میں مبینہ خردبرد کی جا رہی تھی، جس کے ذریعے روزانہ تقریباً 15 لاکھ روپے غیرقانونی طور پر وصول کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پروٹیکٹر آفس کے ڈائریکٹر فرخ جمال کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، جبکہ ابتدائی کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے 7 لاکھ روپے برآمد کیے گئے۔ بعد ازاں دورانِ تفتیش ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے مزید ایک کروڑ روپے برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
رانا شاہد حبیب کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک میں دیگر اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ ایجنٹ مافیا مختلف ممالک کے ویزوں کے لیے الگ الگ نرخ مقرر کر کے شہریوں سے رقوم وصول کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فرخ جمال گزشتہ چھ ماہ سے اس عہدے پر تعینات تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم کی نشاندہی پر پروٹیکٹر آفس کے سسٹم انچارج عمران کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اگر مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پشاور: پروٹیکٹر آفس میں مبینہ کرپشن کا انکشاف، ڈائریکٹر سمیت متعدد اہلکار زیرِ تفتیش.
19