**مانسہرہ: سٹی کالج میں جونیئر کلرک بھرتی پر تضادات، تحقیقات کا مطالبہ**

26

گورنمنٹ ڈگری کالج سٹی مانسہرہ میں جونیئر کلرک کی ایک آسامی کی بھرتی میں سرکاری دستاویزات اور کالج انتظامیہ کے بیانات میں تضادات سامنے آئے ہیں۔ ٹائپنگ ٹیسٹ کے نتائج، امیدواروں کی اہلیت اور انٹرویو کے نمبروں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کالج کے 23 جولائی 2026 کے نوٹس کے مطابق ٹائپنگ ٹیسٹ 25 جولائی صبح 9 سے 12 بجے تک تھا اور 30 الفاظ فی منٹ (WPM) کی رفتار لازمی قرار دی گئی تھی۔
**ٹائپنگ ٹیسٹ کے نتائج میں تضاد**
کالج کی ابتدائی شارٹ لسٹ میں پانچ امیدواروں کو ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کر کے انٹرویو کے لیے اہل قرار دیا گیا: خوشنود علی، طفیل ادریس، احسن صابر، حسن فیاض اور عبدالباسط۔
تاہم بعد میں کالج انتظامیہ نے ایک وضاحت میں کہا کہ صرف دو امیدوار (طفیل ادریس اور حسن فیاض) ہی ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کر سکے۔ باقی تینوں کو نااہل قرار دیا گیا۔
دستیاب TypingQueen رزلٹس کے مطابق خوشنود علی کی نیٹ سپیڈ 26 WPM، احسن صابر کی 29 WPM اور عبدالباسط کی 28 WPM تھی۔ کالج کے مطابق 30 WPM کی شرط پوری نہ ہونے کے باوجود انہیں انٹرویو کے لیے کیوں مدعو کیا گیا، یہ سوال اٹھتا ہے۔
**ٹائپنگ ٹیسٹ کے اوقات پر سوال**
کالج کے نوٹس کے مطابق ٹیسٹ 25 جولائی صبح 9 سے 12 بجے تک تھا، لیکن رزلٹس پر درج اوقات مختلف ہیں:
– خوشنود علی: 24 جولائی رات 11:12
– حسن فیاض: 24 جولائی رات 10:43
– عبدالباسط: 24 جولائی شام 4:00
– احسن صابر: 25 جولائی رات 2:01
کالج پرنسپل ڈاکٹر مفتی محمد اسماعیل خان کے مطابق کمپیوٹر کی گھڑی غلط تھی جس کی وجہ سے مختلف اوقات درج ہوئے۔
**ایک ہی کمپیوٹر پر دو نتائج**
خوشنود علی اور حسن فیاض دونوں کے نتائج ایک ہی کمپیوٹر (DESKTOP-GL5SH9C) پر درج ہیں، جبکہ ان کے درمیان تقریباً 30 منٹ کا فرق ہے۔
**حسن فیاض کے نمبروں میں تبدیلی**
ابتدائی شارٹ لسٹ میں حسن فیاض کے HSSC نمبر 602 اور اسکور 22 درج تھے، جبکہ حتمی میرٹ لسٹ میں یہ نمبر 662 اور اسکور 30 ہو گئے۔ مجموعی اکیڈمک اسکور 52 سے بڑھ کر 60 ہو گیا۔ کالج انتظامیہ نے اس تبدیلی کی وضاحت نہیں کی۔
**انٹرویو کے نمبروں پر سوال**

حتمی میرٹ لسٹ کے مطابق خوشنود علی (67 اکیڈمک نمبر) کو انٹرویو میں 15 نمبر ملے، جبکہ طفیل ادریس (59 اکیڈمک نمبر) کو 25 میں سے 25 نمبر دیے گئے۔ اس طرح 8 نمبروں کی برتری کے باوجود خوشنود علی 82 نمبروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور طفیل ادریس 84 نمبروں کے ساتھ کامیاب قرار پائے۔
کالج انتظامیہ کے مطابق طفیل ادریس کی 43 WPM اور 99 فیصد اکورسی ان کے انتخاب کی وجہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ انٹرویو کے 25 نمبروں کا معیار کیا تھا اور کیا ٹائپنگ سپیڈ کو انٹرویو کا حصہ بنایا گیا تھا؟
**مزید وضاحت طلب**
کالج کے پرنسپل نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن پالیسی کے تحت انٹرویو کے لیے کم از کم تین امیدواروں کو شامل کرنا ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے تحریری قاعدہ پیش نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق بھرتی کے عمل کی شفافیت کے لیے کالج کو تمام امیدواروں کے ٹائپنگ رزلٹس، کمپیوٹر لاگز، انٹرویو کی مارکنگ شیٹس اور سلیکشن کمیٹی کے منٹس جاری کرنے چاہئیں۔ جب تک یہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا، بھرتی کو مکمل طور پر میرٹ پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں