لاہور: پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی دونوں لڑکیوں انمول اور آمنہ کی تدفین پاکپتن میں کردی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حرکت قلب بند ہونے کی تصدیق.

19

لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ کی حراست میں دوران تفتیش جانبحق ہونے والی دو لڑکیوں انمول اور آمنہ کو ان کے آبائی علاقہ پاکپتن میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ دونوں کی نماز جنازہ اہل خانہ اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے ادا کی۔

ذرائع کے مطابق دونوں لڑکیاں 15 اور 17 سال کی تھیں اور انہیں کچھ روز قبل ایک مقدمے میں پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ تاہم پولیس حراست میں ہی دونوں کی حالت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دونوں لڑکیوں کی موت حرکت قلب بند ہونے (کارڈیک اریسٹ) کے باعث ہوئی ہے۔ تاہم اہل خانہ اور مقامی افراد نے تشدد کے ذریعے ہلاک کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں اور انصاف کے لیے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں اور اگر پولیس اہلکاروں کی غفلت یا زیادتی ثابت ہوئی تو ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ اس سلسلے میں تھانہ ٹاؤن شپ کے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کو معطل کر کے تفتیش کے دائرے میں لا لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ عدالت عظمیٰ میں بھی اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں