پشاور میں رکشہ چھیننے کی کوشش، 17 سالہ حافظ و میٹرک طالب علم قتل.

7

مزاحمت پر نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا کر گلے میں پھندا ڈالا، رکشہ لے کر فرار
پشاور (ویب ڈیسک) – پشاور میں رہزنی کے دوران مزاحمت پر 17 سالہ حافظ محمد بلال کو قتل کر دیا گیا۔ مقتول میٹرک کا طالب علم تھا اور گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے رکشہ چلاتا تھا۔
یہ المناک واقعہ شہر کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے رکشہ چھیننے کی کوشش کے دوران نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گلے میں پھندا ڈال کر اسے جان سے مار دیا۔ بعض مقامی اطلاعات کے مطابق واقعے میں فائرنگ بھی کی گئی۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس ذرائع کے مطابق حافظ محمد بلال شام کے وقت رکشہ لے کر مزدوری کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ رات گئے تک واپس نہ آنے پر اہلِ خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بلال بدھو ثمر باغ میں سواری اتارنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم افراد نے اسے روک لیا۔ ملزمان نے رکشہ چھیننے کی کوشش کی، جس پر بلال نے مزاحمت کی تو انہوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گلے میں پھندا ڈال کر قتل کر دیا۔
ملزمان مقتول کا رکشہ لے کر فرار ہو گئے۔
خاندان کا ردعمل
اہلِ خانہ کے مطابق بلال کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ وہ ایک حافظِ قرآن تھا، میٹرک کا طالب علم تھا اور مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ محنت مزدوری کر کے اپنے عمر رسیدہ والد کا سہارا بنا ہوا تھا۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ بلال انتہائی محنتی اور نیک طینت نوجوان تھا، جس نے اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا رکھی تھی۔
پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
واقعے کا مقدمہ تھانہ شاہ پور میں درج کر لیا گیا ہے اور پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایک قیمتی جان کا ضیاع
ایک حافظِ قرآن، ایک طالب علم اور ایک محنت کش نوجوان… چند لمحوں میں اپنے خاندان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔
یہ واقعہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جرائم اور مہنگائی کی وجہ سے محنت کش نوجوانوں پر پڑنے والے دباؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو اپنی خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں مگر اس کا خمیازہ ان کی جان لے لیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں