اسلام آباد – وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سپانٹک چوٹی پر ڈاکٹر عاصمہ مشتاق کی میت نکالنے کے ریسکیو آپریشن پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ریسکیو ٹیم کیمپ 3 کے قریب پہنچ گئی تھی، لیکن شدید خراب موسم، بھاری برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث انہیں مجبوراً کیمپ 2 پر واپس آنا پڑا .
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ میت کو بیس کیمپ لانے کے لیے اب ہیلی کاپٹر کے استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے . اس سلسلے میں گلگت بلتستان حکومت اور ایف سی این اے (FCNA) کے درمیان رابطہ قائم کر لیا گیا ہے اور متبادل انتظامات بھی کر لیے گئے ہیں .
وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بھی تمام صورتحال سے مسلسل باخبر رکھا جا رہا ہے .
پاکستانی کوہ پیما، ڈاکٹر اور ٹریول وی لاگر عاصمہ مشتاق نے 7,027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی (سنہری چوٹی) سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر طبیعت خراب ہونے سے جان بحق ہوگئیں .
وہ برطانیہ میں ماہرِ امراضِ نسواں و زچگی کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں اور کوہ پیمائی و ٹریول ویڈیوز کی وجہ سے مشہور تھیں . ان کی عمر 34 سال تھی اور وہ لاہور کی رہائشی تھیں .
سپانٹک (جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے) شمالی پاکستان کے ضلع نگر، گلگت بلتستان میں 7,027 میٹر بلند ایک خوبصورت چوٹی ہے . سورج کی شعاعیں جب اس پر پڑتی ہیں تو اس کا رنگ سنہرا نظر آتا ہے . یہ چوٹی اپنے مشکل ترین راستوں کی وجہ سے کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
جیسے جیسے ریسکیو آپریشن میں مزید پیش رفت ہوگی، ہم آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے۔
ڈاکٹر عاصمہ کی میت نکالنے کا ریسکیو آپریشن خراب موسم کی نذر، ہیلی کاپٹر کے استعمال کی منظوری.
22