فیصل آباد – تھانہ صدر کی حدود میں 10 سالہ بچے بلال کے اندوہناک قتل کا پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بلائنڈ مرڈر کو 24 گھنٹوں کے اندر ٹریس کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایس پی کمال ٹاؤن سید احمد کے مطابق، بلال 16 اگست کو گھر سے برف لینے کے لیے نکلا تھا، تاہم واپس گھر نہ پہنچا۔ پولیس کو بچے کے لاپتا ہونے کی اطلاع 18 اگست کی صبح ملی، جس کے بعد ویرانے سے بچے کی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران ٹیکنیکل شواہد اور انسانی ذرائع سے ملنے والی معلومات کی مدد سے مبینہ ملزم کی شناخت ساقب عرف ساکو کے نام سے ہوئی، جو قصاب کا کام کرنے کے ساتھ لوڈر رکشہ بھی چلاتا تھا۔
ایس پی کے مطابق ملزم نے بچے کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ ویرانے میں لے گیا، جہاں اس کے ساتھ غیر فطری فعل کیا گیا اور بعد ازاں جرم چھپانے کے لیے بچے کی گردن پر چاقو سے وار کیا گیا، جس کے نتیجے میں بلال جاں بحق ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سی پی او فیصل آباد تنویر حسین کی ہدایت پر ایس پی کمال ٹاؤن سید احمد کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں شامل تھے:
· ایس ایچ او تھانہ صدر
· ڈی ایس پی صدر
· ٹیکنیکل ٹیم
· سی ڈی یو کے اہلکار
پولیس کے مطابق ٹیم نے جائے وقوعہ پر موجود رہ کر ٹیکنیکل شواہد اور انسانی معلومات اکٹھی کیں اور 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے سے متعلق بعض اہم شواہد اور ریکوریز بھی حاصل کی جا چکی ہیں۔
ایس پی کمال ٹاؤن نے یقین دہانی کرائی کہ مبینہ ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی.
ایس پی کمال ٹاؤن نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کو اجنبی افراد سے متعلق احتیاط، کسی کے بہلانے پھسلانے پر ردعمل اور خطرے کی صورت میں فوری طور پر والدین کو اطلاع دینے کے حوالے سے آگاہی دی جائے.
یہ واقعہ ایک معصوم بچے کی جان کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی ایک بڑا المیہ ہے۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنا ابھی باقی ہیں
فیصل آباد: 10 سالہ بلال کا اندوہناک قتل، بلائنڈ مرڈر 24 گھنٹے میں ٹریس، ملزم گرفتار.
29