ایبٹ آباد – شہر کی سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں ایک عجیب سی بے چینی نظر آ رہی ہے۔ ہر طرف دوڑ دھوپ ہے، ہر شخص کسی نہ کسی انتظار میں کھڑا ہے۔ کوئی خوشحال نہیں، کوئی فارغ نہیں۔
ایبٹ آباد میں کوئی گیس کی لائنوں میں کھڑا ہے تو کوئی پٹرول کی لائنوں میں۔ روزمرہ کی ضروریات تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے اور عام آدمی وقت اور محنت کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور ہے۔
کئی شہری اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور جو لوگ کسی نہ کسی طرح گزر بسر کر رہے ہیں، وہ بھی بے یقینی اور مہنگائی کے بحران سے پریشان ہیں۔
شہری کہہ رہے ہیں کہ مجبوری نے ہمیں گھر سے نکال کر سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں پڑے پڑے وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے مگر وسائل کی کمی اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث انہیں مجبوراً لاکھوں مشکلات برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔
ایبٹ آباد کی موجودہ صورتحال پاکستان کے بیشتر شہریوں کی حالت کا عکاس ہے — جہاں روزگار، مہنگائی، توانائی بحران اور معاشی غیر یقینی نے لوگوں کو نہ صرف جسمانی طور پر مصروف بلکہ ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔
ایبٹ آباد: ہر شخص مجبوریوں کے ہاتھوں بے حال، کسی کو گیس تو کسی کو پٹرول کی لائنوں میں مصروف دیکھا جا رہا ہے
37