نیپال – 26 اگست کو پیش آنے والے تباہ کن گلیشیئر سانحے میں ایک اندازے کے مطابق 100 ملین مکعب میٹر برف، چٹانیں اور ملبہ پگھل کر ایک خوفناک سیلابی ریلا میں تبدیل ہو گیا۔ اس بہاؤ نے صرف 7 منٹ میں 20 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا — جس کی اوسط رفتار تقریباً 180 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
عددی اعداد و شمار
ماہرین کے مطابق یہ تباہ کن ریلا سطح سمندر سے 3,000 میٹر کی بلندی سے نیچے آیا، جہاں اس کی زبردست قوت اور رفتار پوری وادی میں تباہی مچانے کے لیے کافی تھی۔
وادی میں پانی کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ (Peak Discharge) تقریباً 5,850 مکعب میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ گیا۔ اس کا موازنہ اگر نیاگرا آبشار سے کیا جائے تو وہاں کا اوسط بہاؤ صرف 2,400 مکعب میٹر فی سیکنڈ ہے — یعنی یہ نیاگرا سے دوگنا سے بھی زیادہ طاقتور تھا، اور یہ سب ایک ہی پہاڑی وادی میں گزرا۔
کل ملبہ
مجموعی طور پر اس بہاؤ میں 10 کروڑ (100 ملین) مکعب میٹر برف، چٹانیں، مٹی اور دیگر ملبہ شامل تھا، جو وادی کے بیچ میں موجود ہر چیز کو بہا کر لے گیا۔
وجہ اور اسباب
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کا ٹوٹنا (Glacier Collapse) اور گلیشیائی جھیلوں کا پھٹنا (GLOF) اس سانحے کی اصل وجہ تھی۔ موسمیاتی تبدیلیاں اس رجحان کو مزید تیز کر رہی ہیں، اور نیپال میں آنے والے اس سانحے نے دنیا بھر کی توجہ پہاڑی علاقوں کی حفاظتی تدابیر پر مرکوز کر دی ہے۔




نیپال سانحہ: گلیشیئر ٹوٹنے کا تیز ترین بہاؤ — 7 منٹ میں 20 کلومیٹر، نیاگرا سے دوگنا طاقتور.
19