مری – مری کے گاؤں کہاہٹی سے تعلق رکھنے والے شکیل عباسی کی بیٹیوں کے مبینہ اغوا کی خبر نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ دو خاندانوں کے درمیان شادی کے تنازع کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے .
اطلاعات کے مطابق، اس المیے کا آغاز شکیل عباسی کے بیٹے کی اپنی مرضی سے کی گئی شادی سے ہوا۔ انہوں نے پاکستان زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ٹائیں ڈھلکوٹ سے تعلق رکھنے والی عمران شاہ کی بیٹی سے رضامندی سے نکاح کیا تھا . اس فیصلے کے ردعمل میں، شکیل عباسی کی دو بیٹیوں کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا .
یہ واقعہ دو سنگین معاملات کو جنم دیتا ہے: ایک طرف ایک بالغ لڑکے اور لڑکی کی اپنی مرضی کی شادی، اور دوسری طرف اس کے بدلے میں معصوم بچیوں کا اغواء۔
ماہرین کے مطابق، اگر کوئی جوڑا اپنی مرضی سے نکاح کرتا ہے تو اختلاف رکھنے والوں کے لیے قانونی راستے موجود ہیں، لیکن اس اختلاف کا بدلہ کسی دوسرے کی بیٹیوں سے لینا کسی صورت درست نہیں .
مری پولیس نے اس معاملے کو سنگینی سے لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور بچیوں کی بازیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی اور جیو فینسنگ کی مدد سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں . ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں .
اہلِ مری اور تمام باشعور شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے کو کسی خاص قوم، برادری یا علاقے سے نہ جوڑیں۔ یہ مری اور کشمیر کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت اور انصاف کا مسئلہ ہے۔ بیٹی کسی کی بھی ہو، اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بچیوں کو فوری بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

مری میں شکیل عباسی کی بیٹیوں کے مبینہ اغوا کا المناک واقعہ
32