مانسہرہ: پچھلے 50-60 سالوں میں کوئی تبدیلی نہیں، عوام پریشان

30

مانسہرہ – پچھلے 50-60 سالوں کے دوران مانسہرہ شہر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جس طرح کا شہر کچھ عرصہ قبل تھا، آج بھی اسی طرح کا ہے۔ کوئی ایئرپورٹ نہیں، کوئی جدید سوسائٹی نہیں، اور نہ ہی بنیادی سہولیات میں کوئی خاص اضافہ ہوا ہے۔
شرح خواندگی اور روزگار کے مواقع
ضلع مانسہرہ میں شرح خواندگی تقریباً 55-60 فیصد ہے، جس میں خواتین کی شرح خواندگی 40 فیصد سے بھی کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ضلع کی 70 فیصد سے زائد آبادی اپنی روزی روٹی کے لیے ملک، صوبے یا ضلع سے باہر کام کرنے پر مجبور ہے۔ اتنی بڑی بے روزگاری اور مواقع کی کمی معاشی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
جدید سہولیات کا فقدان
ضلع کے رہائشی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مانسہرہ میں ان کے لیے کون سی جدید سہولتیں میسر ہیں اور کہاں کمی ہے۔ اگرچہ ہر شخص ٹچ موبائل استعمال کرتا ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھتا ہے، لیکن یہ جدید ٹیکنالوجی معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لا سکنے میں ناکام رہی ہے۔
عوامی آگاہی
عوام اب پوری طرح بیدار اور باشعور ہیں۔ وہ اپنے حقوق اور ضروریات سے بخوبی واقف ہیں۔ ماضی ختم ہو چکا ہے اور اب جدید تقاضوں کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
نتیجہ
ضلع مانسہرہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی اہمیت کے باوجود ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات میں دیگر اضلاع سے پیچھے رہ گیا ہے۔ مقامی عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ جدید تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے شہر میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں، تاکہ بے روزگاری اور پسماندگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں