مارگلہ کا بارکنگ ہرن: آواز سے پہچانا جانے والا نایاب جنگلی جانور

32


اسلام آباد:** مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے گھنے جنگلات میں ایک ایسا چھوٹا اور خوبصورت ہرن بھی آباد ہے جسے دیکھنا آسان نہیں، تاہم اس کی مخصوص آواز جنگل کی خاموشی توڑ دے تو اس کی موجودگی کا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے۔ یہ بارکنگ ہرن، ککڑ یا انڈین منٹ جیک** کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام **Muntiacus muntjak** ہے۔
یہ دنیا کے نسبتاً چھوٹے ہرنوں میں شمار ہوتا ہے اور اسلام آباد کے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں آج بھی پایا جاتا ہے۔ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ بھی اسے مارگلہ کے اہم جنگلی ممالیہ میں شمار کرتا ہے۔
اس ہرن کو انگریزی میں **Barking Deer** کہنے کی بنیادی وجہ اس کی مخصوص آواز ہے۔ خطرہ محسوس ہونے پر یہ تیز اور وقفے وقفے سے بھونکنے جیسی آواز نکالتا ہے۔ گھنے جنگل میں اکثر یہ جانور آنکھوں سے دکھائی دینے کے بجائے اپنی آواز سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔
یہ آواز ممکنہ خطرے کے بارے میں آس پاس موجود جانوروں کو خبردار کرنے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی منفرد خصوصیت اسے مارگلہ کے جنگلات میں پائے جانے والے دوسرے جنگلی جانوروں سے ممتاز بناتی ہے۔
مارگلہ کے بارکنگ ہرن کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ دستیاب پرانی رپورٹس کے مطابق 1970 کی دہائی میں مارگلہ کے علاقے میں اس کی تعداد انتہائی کم ہوکر تقریباً **20 سے 30 جانوروں** تک رہ گئی تھی۔
بعد ازاں مارگلہ ہلز کو نیشنل پارک کا تحفظ حاصل ہونے کے بعد اس کی صورتحال میں بہتری آئی اور 1990 تک اس کی آبادی تقریباً **67 جانوروں** تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا۔
2005 میں کیے گئے تقریباً **71 کلومیٹر** کے سروے کے دوران مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تقریباً **86 بارکنگ ہرن** موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ سروے کے مطابق موزوں رہائش گاہ میں اس کی اوسط کثافت تقریباً **1.21 جانور فی مربع کلومیٹر** ریکارڈ کی گئی۔
سروے کے دوران شاہدرہ، رملی، دامنِ کوہ، کوٹ جندان اور شاہ اللہ دتہ سمیت مختلف علاقوں میں اس کی موجودگی ریکارڈ کی گئی، جبکہ زیادہ تر جانور جنوبی ڈھلوانوں پر پائے گئے۔
بارکنگ ہرن عام ہرنوں کی طرح کھلے میدانوں میں زیادہ گھومنے کے بجائے گھنے جھاڑی دار اور پتوں والے جنگلات کو ترجیح دیتا ہے۔
مارگلہ کی جنوبی ڈھلوانوں پر موجود درخت، جھاڑیاں، گھاس اور دیگر نباتات اسے خوراک کے ساتھ ساتھ چھپنے اور محفوظ رہنے کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق درمیانے درجے کا درختوں کا احاطہ اس کے لیے موزوں رہائش گاہ فراہم کرتا ہے، جبکہ گھاس کی موجودگی بھی اس کی رہائش کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بارکنگ ہرن بنیادی طور پر پودوں پر گزارا کرتا ہے۔ اس کی خوراک میں گھاس، جڑی بوٹیاں، نرم پتے، جھاڑیوں کی کونپلیں، پھل اور زمین کے قریب دستیاب مختلف نباتاتی اجزا شامل ہوتے ہیں۔
یہ عموماً تنہا رہتا ہے، تاہم مادہ کو اپنے بچے کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 2005 کے سروے میں تقریباً **64.29 فیصد مشاہدات میں بارکنگ ہرن اکیلا** پایا گیا، جبکہ باقی زیادہ تر مشاہدات دو جانوروں پر مشتمل تھے۔
بارکنگ ہرن میں نر اور مادہ کے درمیان بھی واضح جسمانی فرق پایا جاتا ہے۔ نر کے سر پر چھوٹے لیکن نمایاں شاخ دار سینگ ہوتے ہیں، جبکہ مادہ کے سر پر سینگ نہیں ہوتے۔
نر کے اوپری جبڑے میں چھوٹے مگر نوکیلے دانت بھی ہوتے ہیں جو بعض اوقات منہ سے باہر تک دکھائی دے سکتے ہیں۔ جسم چھوٹا ہونے کے باوجود یہ ہرن تیز رفتار اور چست ہوتا ہے اور خطرے کی صورت میں چند لمحوں میں گھنی جھاڑیوں میں غائب ہوسکتا ہے۔
بارکنگ ہرن کی بھوری مائل سرخی والی کھال مارگلہ کے جنگلاتی ماحول سے کافی حد تک ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ درختوں، سوکھے پتوں اور جھاڑیوں کے درمیان اس کی موجودگی کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مارگلہ میں بہت سے افراد اس جانور کو شاید ہی کبھی براہ راست دیکھ پاتے ہیں، تاہم جنگل میں اس کی مخصوص آواز سنائی دینا اس کی موجودگی کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔
مارگلہ کے جنگلات میں بارکنگ ہرن صرف ایک خوبصورت جنگلی جانور نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تیندوے جیسے بڑے شکاریوں کے قدرتی شکار میں شامل ہے، یوں یہ جنگل کے غذائی نظام میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
مارگلہ میں تیندوے، جنگلی سور، گیدڑ اور دیگر جنگلی ممالیہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ اس لیے بارکنگ ہرن کا تحفظ دراصل پورے جنگلاتی نظام کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ہے۔
پاکستان میں بارکنگ ہرن کی موجودگی ہر جگہ مسلسل نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں محدود اور الگ تھلگ آبادیوں کی شکل میں پائی جاتی ہے۔ دستیاب مطالعات میں مارگلہ ہلز کے علاوہ خانپور رینج اور لٹھراڑ کے علاقوں کا ذکر بھی ملتا ہے، جبکہ ہمالیائی دامن اور آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں بھی اس کی موجودگی کے ریکارڈ سامنے آئے ہیں۔
مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں جنگلی حیات ایک بڑے شہری مرکز، اسلام آباد، کے بالکل قریب موجود ہے۔ یہی قربت جنگلی جانوروں کے لیے بعض خطرات بھی پیدا کرتی ہے۔
جنگلات میں انسانی مداخلت، رہائش گاہ کا سکڑنا، غیر قانونی شکار، غیر قانونی تجاوزات، آزاد گھومنے والے کتوں اور دیگر انسانی سرگرمیاں بارکنگ ہرن سمیت جنگلی حیات کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
ماضی کی تحقیق میں بھی رہائش گاہ کی تباہی، انسانی تجاوزات، شکار اور شکاری کتوں کو بارکنگ ہرن کے لیے اہم خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔
مارگلہ میں بارکنگ ہرن کے تحفظ کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں اس کے غیر قانونی شکار کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ جولائی 2025 میں مارگلہ ہلز میں ایک بارکنگ ہرن کے غیر قانونی قتل پر اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے قانونی کارروائی کی گئی، جبکہ اس سے قبل ٹریل 6 کے علاقے میں بھی بارکنگ ہرن کے شکار کی کوشش کرنے والے افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اسلام آباد کے شہریوں کے لیے مارگلہ ہلز محض تفریحی مقام نہیں بلکہ ایک اہم قدرتی ماحولیاتی نظام بھی ہے، جہاں آج بھی کئی ایسے جنگلی جانور موجود ہیں جو شہری آبادی سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر قدرتی زندگی گزار رہے ہیں۔
بارکنگ ہرن اسی جنگلاتی زندگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ یہ ایسا جانور ہے جسے دیکھنے کے لیے شاید قسمت کا ساتھ درکار ہو، لیکن اگر مارگلہ کے گھنے جنگل میں اچانک بھونکنے جیسی مخصوص آواز سنائی دے تو ممکن ہے کہ کہیں قریب ہی یہ ننھا ہرن موجود ہو۔
مارگلہ کے اس خاموش رہائشی کا تحفظ صرف ایک جنگلی جانور کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ اسلام آباد کے قدرتی ماحول، جنگلات اور پورے ماحولیاتی نظام کے تحفظ سے جڑا ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں