ایران اور سعودی عرب کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان: “بیت اللہ کو خطرہ نہیں، عیاشی کو خطرہ ہے”.

39

اسلام آباد – ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کے ردعمل پر سخت تنقید کی گئی ہے۔
ایران اتنی بڑی جنگ لڑی ہے اور لڑ رہے ہیں، کبھی بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ امام رضا علیہ السلام کی ضریح کو خطرہ ہے، کیونکہ دنیا میں یہ جنگوں کا اصول ہے کہ مذہبی مقامات پر حملے نہیں کر سکتے۔ اور لڑ بھی دنیا کے سپر پاور سے رہا ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب والے ہیں، دو دن جنگ ہوئی، فوجی مقابلہ کرنے کی بجائے واویلا مچا رہے ہیں کہ بیت اللہ شریف کو خطرہ ہے۔ یمنی حوثی ان کے مقابلے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
ور ملڑو سارے پھڑک رہے ہیں کہ حرمین شریفین کو نعوذ باللہ خطرہ ہے۔ جاہلو! پوری دنیا مل جائے، اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی حفاظت کرنا بہتر جانتا ہے۔ بیت اللہ شریف کو کوئی خطرہ نہیں، ان عیاشوں کی عیاش پرستی کو خطرہ ہے۔
جس دن یمنی یا کسی نے بھی بیت اللہ شریف پر ہرزہ سرائی کرنے کی ناکام کوشش کی، ان شاء اللہ ارض خدا سے مٹا دیا جائے گا۔
لیکن فی الوقت یہ فوجی جنگیں ہیں، حوصلہ رکھو۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں ایران، سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب نے یمنی حوثیوں کے حملوں کے بعد ایران پر الزامات عائد کیے تھے۔
سوشل میڈیا پر اس بیان پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین اسے جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں، تو کچھ اسے حقیقت پر مبنی اور بہادرانہ بیان سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں