ایران میں جڑواں بہنوں پر دورانِ حراست تشدد کا الزام، ایک کو سزائے موت — اہلِ خانہ کا نیا دعویٰ: کھانا بھی روکا جا رہا ہے.

23

ایران میں جڑواں بہنوں پر دورانِ حراست تشدد کا الزام، ایک کو سزائے موت — اہلِ خانہ کا نیا دعویٰ: کھانا بھی روکا جا رہا ہے
اصفہان – ایران کے شہر اصفہان میں جنوری 2026 کے احتجاج کے بعد گرفتار ہونے والی جڑواں بہنوں ترانہ رحیمی اور رومینا رحیمی کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں کو دورانِ حراست شدید تشدد اور جنسی تشدد کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سزائے موت پانے والی ترانہ کو اب مبینہ طور پر کھانا بھی نہیں دیا جا رہا۔ یہ تازہ الزامات دونوں بہنوں کے امریکا میں مقیم کزن مسعود نورمحمدی نے ایران انٹرنیشنل کو دیے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
گرفتاری کے وقت دونوں کی عمر 19 سال تھی اور انہوں نے اپنی 20ویں سالگرہ جیل میں گزاری۔ اس وقت دونوں اصفہان کی دولت آباد جیل میں قید ہیں۔
دونوں بہنیں اصفہان کے شہدا اسکوائر کیس کے 16 ملزمان میں شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم HRANA اور دیگر ذرائع کے مطابق ان 16 افراد میں سے 10 کو ابتدائی مرحلے میں سزائے موت سنائی گئی۔ ترانہ رحیمی بھی انہی 10 افراد میں شامل ہیں ۔
ترانہ سمیت سزائے موت پانے والے افراد پر ایرانی قانون کے تحت محاربہ سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، اجتماع و سازش اور نظام کے خلاف پروپیگنڈا جیسے الزامات عائد کیے گئے۔ HRANA کے مطابق وکلا نے مقدمے کی فائل تک مکمل رسائی نہ ملنے اور شواہد کا جائزہ لینے کے لیے ناکافی وقت دیے جانے پر اعتراض کیا تھا ۔
رومینا رحیمی کی قید کی مدت کے بارے میں دستیاب رپورٹس میں فرق موجود ہے۔ HRANA اور Hengaw کی 31 اگست کی رپورٹس میں 36 سال قید درج ہے ، جبکہ بعض دوسری حالیہ رپورٹس میں 25 سال بتایا گیا ہے ۔ اس لیے 36 سال کو حتمی مدت کے طور پر بیان کرنے کے بجائے اس اختلاف کو واضح رکھنا زیادہ درست ہے۔
مسعود نورمحمدی کے مطابق دونوں بہنوں کو حراست کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جنسی تشدد کی دھمکیاں دے کر دباؤ ڈالا گیا ۔
انہوں نے بتایا کہ ترانہ کی ٹانگ کا آپریشن ہوا تھا اور اس میں اسکریو اور پلیٹیں ڈالی گئی تھیں۔ ان کے مطابق حراست کے بعد اس کی حالت شدید خراب ہوگئی۔ جیل ڈاکٹر نے ترانہ کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، لیکن جیل حکام نے علاج سے روک دیا ۔
نورمحمدی کے مطابق ان سے بار بار کہا گیا: “تمہیں پھانسی دی جائے گی۔ تمہاری ٹانگ ٹوٹی ہو یا صحت مند، تمہیں پھانسی دی جائے گی۔”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ تفتیش کے دوران ترانہ کے چہرے اور جسم پر سوجن اور زخم تھے، اور انہیں بالوں سے گھسیٹ کر ایک سیل سے دوسرے سیل میں لے جایا جاتا تھا جس سے ان کے تمام بال اکھڑ گئے ۔
نورمحمدی کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے ترانہ کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو رومینا کے ساتھ اس کے سامنے جنسی زیادتی کی جائے گی۔ ان کے مطابق ترانہ کو زبردستی رومینا کی چیخیں سننے پر مجبور کیا گیا ۔
تازہ ترین دعوے میں مسعود نورمحمدی نے ایران انٹرنیشنل کو بتایا کہ جیل حکام نے مبینہ طور پر ترانہ کو کھانا دینا بند کر دیا ہے اور وہ دوسری قیدی خواتین کے بچے ہوئے یا ان کی جانب سے بانٹے گئے کھانے پر گزارا کر رہی ہیں ۔
ان کے مطابق ترانہ کو بتایا گیا کہ یہ سلوک بیرونِ ایران ان کے مقدمے کو اجاگر کرنے کی خاندان کی کوششوں سے منسلک ہے۔ یہ دعویٰ فی الحال خاندان کی جانب سے سامنے آیا ہے اور اس پر ایرانی جیل حکام کا جواب دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔
مقدمے پر انسانی حقوق کے اداروں کے اعتراضات
اس کیس میں دو افراد—ایک پاسدارانِ انقلاب کے رکن اور ایک بے گھر شخص—کی ہلاکت کا معاملہ بھی شامل رہا ہے، لیکن HRANA اور Hengaw کے مطابق 16 ملزمان کے فردِ جرم میں ان ہلاکتوں کے حوالے سے براہِ راست قتل کا الزام شامل نہیں تھا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد میں ترانہ کی ایک ویڈیو ایسی بھی ہے جس میں وہ بے گھر شخص کو مارنے سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس مقدمے میں منصفانہ ٹرائل کے معیار، قانونی دفاع اور سزائے موت کے استعمال پر سنگین تحفظات ظاہر کیے ہیں ۔
ترانہ رحیمی کی سزائے موت ابتدائی عدالتی فیصلے کا حصہ ہے؛ دستیاب انسانی حقوق کی رپورٹنگ کے مطابق ایسے بعض مقدمات ابھی اپیل یا مزید عدالتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔
ذرائع: Iran International، HRANA، Hengaw، Human Rights Watch، RFE/RL

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں