خیبر پختونخوا میں گیس بحران سنگین، وزیراعلیٰ کا وزیراعظم کو خط، فوری اقدامات کا مطالبہ.

20

خیبر پختونخوا میں گیس بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس کے باعث عوامی مشکلات میں اضافہ اور بے چینی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس صورتحال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم Shehbaz Sharif کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے، جس میں صوبے کو درپیش سنگین مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا ایک اہم صوبہ ہے، اس کے باوجود اسے اپنے آئینی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے، جبکہ اس کا مقامی استعمال صرف 120 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔
مزید کہا گیا کہ سی این جی سیکٹر کے لیے درکار 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کو کھاد کے شعبے کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ گیس کی بندش سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے، ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو گیس کے استعمال پر پہلا حق حاصل ہے، جبکہ Peshawar High Court بھی سی این جی سیکٹر کو گیس کی بندش کو غیر منصفانہ قرار دے چکی ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے اور گیس بحران کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں