خان پور: ایک افسوسناک واقعے میں نوجوان لڑکی نے ایک شخص پر ملازمت کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی، بلیک میلنگ اور جعلی نکاح نامہ تیار کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
متاثرہ لڑکی حسنہ شبیر نے اپنی والدہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجید کالونی کے رہائشی نعیم علوی نے اسے محکمہ صحت میں مستقل نوکری دلوانے کا لالچ دے کر اپنے گھر بلایا۔ الزام کے مطابق وہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلائی گئی، جس کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کی گئی اور خفیہ ویڈیوز بنا کر اسے مسلسل بلیک میل کیا جاتا رہا۔
متاثرہ کے مطابق اس بلیک میلنگ اور مبینہ زیادتی کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ بعد ازاں ملزم نے مبینہ طور پر سفید کاغذوں پر انگوٹھے لگوا کر جعلی نکاح نامہ تیار کر لیا تاکہ خود کو قانونی تحفظ فراہم کر سکے۔
والد محمد شبیر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ جب انہوں نے مونسپل کمیٹی سے نکاح نامے کی تصدیق کروائی تو معلوم ہوا کہ دستاویز میں درج قاضی کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں، جس سے نکاح نامے کے جعلی ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ درخواست دینے کے باوجود پولیس کی جانب سے کئی روز گزرنے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے۔
متاثرہ لڑکی نے وزیر اعلیٰ پنجاب، پنجاب پولیس کے سربراہ آئی جی پنجاب اور ڈی پی او رحیم یار خان سے فوری نوٹس لے کر ملزم کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
📌 اہم نکات:
ملازمت کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی کا الزام
ویڈیوز کے ذریعے مسلسل بلیک میلنگ کا دعویٰ
جعلی نکاح نامہ تیار کرنے کا انکشاف
پولیس کی مبینہ غفلت پر سوالات
اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ
📍 خان پور: ملازمت کا جھانسہ، مبینہ زیادتی، بلیک میلنگ اور جعلی نکاح نامہ کا انکشاف
23