ہزارہ ڈویژن میں پیش آنے والے رجوعیہ سوڑی پل ہنی ٹریپ کیس کے حوالے سے مزید اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں۔ پولیس ایف آئی آر کے مطابق جناح آباد کے رہائشی عثمان صدیق 25 جون 2026 کو اپنی گاڑی نمبر LEE-1117 پر فوارہ چوک سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ایک لڑکی نے لفٹ مانگی، جسے انہوں نے گاڑی میں بٹھا لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق لڑکی نے جھگیاں جانے کی درخواست کی، جس پر عثمان اسے وہاں لے گئے۔ دورانِ سفر لڑکی نے چپل کباب کھانے کی خواہش ظاہر کی اور بعد ازاں دونوں کے درمیان موبائل نمبرز کا تبادلہ بھی ہوا۔
تین روز بعد مذکورہ لڑکی نے عثمان کو فون کرکے حویلیاں بلایا۔ عثمان جب ایوب پل حویلیاں پہنچا تو وہاں دو لڑکیاں موجود تھیں، جنہوں نے ایک اور سہیلی کو ساتھ لینے کا بہانہ کیا۔ بعد ازاں وہ اسے رجوعیہ سوڑی پل کے قریب ایک سنسان مقام پر لے گئیں، جہاں پہلے سے موجود دو نوجوانوں نے مبینہ طور پر اسے یرغمال بنا لیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے متاثرہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس سے 35 ہزار روپے نقدی اور اے ٹی ایم کارڈ چھین لیا۔ بعد ازاں دو ملزمان اسے قابو میں رکھے رہے جبکہ دیگر ملزمان گاڑی لے کر اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے گئے، تاہم کوشش ناکام رہی کیونکہ متاثرہ شخص نے مبینہ طور پر غلط پاس ورڈ بتایا تھا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو لڑکیوں اور دو لڑکوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ رجوعیہ پولیس نے مقدمہ نمبر 355 زیر دفعات 392/34 درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
⚠️ یہ واقعہ شہریوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ غیر متعلقہ افراد پر فوری اعتماد کرنے، ذاتی معلومات شیئر کرنے اور سنسان مقامات پر جانے سے گریز کیا جائے۔