شانگلہ: والد کے قتل کیس میں بیٹا گرفتار، آلۂ قتل بھی برآمد.

16

شانگلہ کے علاقے پشلوڑ میں امان عبدالرحمان کے قتل کے مقدمے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد مقتول کے بیٹے رحید الحق عرف ریکارڈی کو والد کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ مبینہ آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے
پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد مقتول کے بیٹے نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ بعد ازاں ڈی پی او شانگلہ شاہ حسن خان، ایس پی انویسٹی گیشن زاہد خان اور ایس ڈی پی او الوچ فضل الٰہی خان کی ہدایات پر خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے کیس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
ایس ایچ او مارتونگ روح الامین خان، تفتیشی افسر ممتاز خان اور ان کی ٹیم نے جدید تفتیشی طریقہ کار، شواہد اور دیگر معلومات کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مقتول کے بیٹے رحید الحق عرف ریکارڈی کو حراست میں لیا گیا، جہاں سے مزید تفتیش کے بعد اسے باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم واقعے کے بعد سوگوار خاندان کے فرد کے طور پر تمام سرگرمیوں میں شریک رہا۔ وہ اپنے والد کو ہسپتال منتقل کرنے اور بعد ازاں نماز جنازہ میں بھی موجود تھا، جس کے باعث ابتدائی طور پر کسی کو اس پر شبہ نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزم نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے والد پر مختلف افراد کے قرضے تھے اور قرض خواہوں کی آمد و رفت کی وجہ سے گھر میں مسلسل ذہنی دباؤ اور پریشانی کا ماحول پایا جاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اسی پس منظر کو واقعے کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک سنگین جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس نے خاندانی تعلقات، مالی مسائل اور معاشرتی دباؤ جیسے اہم موضوعات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ علاقے کے عوام نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حتمی حقائق مکمل تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں