مانسہرہ تا چلاس موٹروے منصوبے کی منظوری، کاغان اور ناران کو جدید شاہراہ سے منسلک کرنے کا فیصلہ.

30

مانسہرہ: وفاقی سطح پر مانسہرہ سے چلاس تک نئی موٹروے کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت سیاحت اور آمدورفت کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھے جانے والے علاقوں کاغان، ناران، بابو سر ٹاپ، جلکھڈ اور چلاس کو جدید موٹروے نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔
منصوبے کے مطابق مانسہرہ تا چلاس موٹروے تقریباً 172 کلومیٹر طویل ہوگی اور اسے دو مراحل (فیزز) میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ مانسہرہ سے بابو سر ٹاپ تک محیط ہوگا، جس میں جدید معیار کے مطابق چار رویہ (4-Lane) موٹروے تعمیر کی جائے گی۔ اس مرحلے کی نمایاں خصوصیت بابو سر ٹاپ پر 13.5 کلومیٹر طویل ٹنل ہوگی، جو مکمل ہونے پر پاکستان کی طویل ترین ٹنلز میں شمار کی جائے گی۔ اس ٹنل کی بدولت سال بھر آمدورفت کو یقینی بنانے اور شدید برفباری کے دوران سفری مشکلات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
دوسرے مرحلے میں بابو سر ٹاپ سے چلاس تک موٹروے تعمیر کی جائے گی، جس سے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوں گے اور سفری دورانیہ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔
منصوبے میں مسافروں کی سہولت کے لیے ہر 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جدید طرز کے ریسٹ ایریاز، پارکنگ، فوڈ پوائنٹس، فیول اسٹیشنز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اس میگا پراجیکٹ سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ کاغان ویلی، ناران، جلکھڈ اور شمالی علاقوں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد لاکھوں سیاحوں اور مقامی آبادی کو تیز، محفوظ اور ہر موسم میں قابلِ استعمال سفری سہولت میسر آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں