چکوال میں سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے 10 سالہ بچی ہانیہ کی افسوسناک موت کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سی سی ڈی ذرائع کی جانب سے اعلیٰ حکام کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، پولیس کو سی سی ڈی تھانے کے عقب میں دو مبینہ ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملی، جس پر اہلکار فوری طور پر علاقے میں پھیل گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک مسلح اہلکار گلی کے ایک سرے پر پوزیشن لیے ہوئے تھا، جہاں مبینہ ڈاکو داخل ہوئے تھے۔ ڈاکوؤں نے آگے جا کر ایک کار کو روکا، جس میں آسٹریلوی شہری عدیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، بیٹی ہانیہ اور بیٹا آفاق سوار تھے۔ مبینہ طور پر ملزمان نے نقدی اور زیورات چھیننے کے بعد فرار کی کوشش کی۔
اسی دوران گھبراہٹ میں عدیل نے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا دی۔ گلی کے دوسرے سرے پر موجود اہلکار نے مبینہ طور پر یہ سمجھا کہ ڈاکو کار چھین کر فرار ہو رہے ہیں، جس پر اس نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 10 سالہ ہانیہ، ان کے والد عدیل اور بھائی آفاق زخمی ہو گئے۔ ہانیہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
واقعے کے بعد شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث سی سی ڈی اہلکار کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ حکام اور جے آئی ٹی اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ واقعہ جان بوجھ کر پیش آیا یا یہ ایک المناک غلط فہمی تھی۔
پولیس کے مطابق متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر آسٹریلوی میڈیا نے بھی اس سانحے کو نمایاں کوریج دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے پاکستانی سفارتخانے سے وضاحت طلب کر لی ہے، جبکہ پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمیشن کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔ آسٹریلیا نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل شفافیت اور میرٹ پر کی جائیں۔
چکوال: سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے 10 سالہ بچی جاں بحق، معاملہ آسٹریلیا تک پہنچ گیا.
20