وفاقی تحقیقاتی ادارہ (Federal Investigation Agency) نے پاکستان میں کسٹوڈیل ٹارچر ایکٹ کے تحت درج ہونے والے پہلے مقدمے میں اہم قانونی کامیابی حاصل کرتے ہوئے چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف سزائیں دلوائیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران زیرِ حراست ہلاکت (Custodial Death) کے کیس میں ملزمان کی جانب سے متاثرہ خاندان کو 9 کروڑ 80 لاکھ روپے بطور دیت ادا کیے گئے، تاہم ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر قابلِ راضی نامہ (Non-Compoundable) جرائم میں صلح یا دیت کی ادائیگی سے قانونی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
عدالت نے ایف آئی اے کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ حراست تشدد اور ہلاکت جیسے جرائم میں صلح صرف مالی معاملات تک محدود ہو سکتی ہے، جبکہ فوجداری ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔
فیصلے کے مطابق ایس ایچ او تھانہ غالیگئی، محرر، مدد محرر، چوکی انچارج اور تفتیشی افسران سمیت مجموعی طور پر چھ پولیس اہلکاروں کو مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دے کر سزائیں سنائی گئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی اداروں کے اہلکار بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
مقدمے میں پراسیکیوشن کی ذمہ داری زبیر خان نے انجام دی جبکہ جامع اور مؤثر تفتیش تاحر خان کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔
یہ فیصلہ پاکستان میں کسٹوڈیل تشدد کے خلاف قانون کے مؤثر نفاذ، قانون کی بالادستی اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں کسٹوڈیل ٹارچر کیس: ایف آئی اے کی بڑی قانونی کامیابی، 6 پولیس اہلکار مجرم قرار.
24