آن لائن کام کا جھانسہ دے کر 19 سالہ لڑکی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل، دوسرا مرکزی ملزم بھی گرفتار.

33

تھانہ آباد پور کی حدود میں ایک دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں صادق آباد کی رہائشی 19 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر آن لائن کام کی پیشکش کے بہانے بلایا گیا اور بعد ازاں اسے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ واقعہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا، جس میں متاثرہ لڑکی کو جھانسہ دے کر مخصوص مقام پر بلایا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم انس کو گرفتار کیا تھا، جبکہ تازہ پیش رفت میں دوسرے مرکزی ملزم ذیشان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایس پی انویسٹی گیشن شاہد نذیر اس سنگین کیس کی تفتیش کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
دوسری جانب لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بن سکے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے فراڈ اور خطرناک جھانسوں کے حوالے سے سنگین سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں