Chilas کے قریب گزشتہ رات ایک بجے کے قریب گنی کے مقام پر شاہراہِ قراقرم پر سفر کرنے والی ایک مسافر کار کو مبینہ طور پر لوٹنے کی کوشش کی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم نقاب پوش افراد نے مسافر کار کو روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پر گاڑی پر فائرنگ بھی کی۔ اس دوران ڈرائیور نے غیر معمولی حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر گاڑی کو ریورس کیا اور مسافروں، جن میں اساتذہ بھی شامل تھے، کو ممکنہ نقصان سے بچاتے ہوئے قریبی ہوٹل تک پہنچا دیا، جہاں انہوں نے پناہ حاصل کی۔
واقعے کے بعد مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ متاثرہ مسافروں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شاہراہِ قراقرم پر سفر کرنے والوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔
مسافروں اور مقامی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع دیامر اور شاہراہِ قراقرم کے حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کی جائے، رات کے اوقات میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گشت بڑھائی جائے اور سیاحوں، مسافروں اور مقامی افراد کے تحفظ کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
شاہراہِ قراقرم پاکستان کی اہم ترین بین الاقوامی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جس پر روزانہ ہزاروں مسافر، سیاح اور تجارتی گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے کی سیاحت اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔