پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں اب بھی سابقہ دور کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سے قبل رواں سال جنوری اور فروری میں ملک میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 248 روپے سے 266 روپے فی لیٹر کے درمیان رہی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 280 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔
اس وقت پیٹرولیم لیوی بھی 78 روپے سے 105 روپے فی لیٹر کے درمیان تھی۔
موجودہ صورتحال کے مطابق عوام کو اب بھی پیٹرول اور ڈیزل 30 سے 35 روپے فی لیٹر زیادہ قیمت پر دستیاب ہو رہے ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ اخراجات پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر، ٹیکسز اور لیوی میں تبدیلیاں مجموعی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، تاہم عوامی حلقوں میں اس اضافے کو مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مؤثر پالیسی اپنائی جائے تاکہ عام شہری کو ریلیف مل سکے۔
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل اب بھی مہنگا، پرانی قیمتوں کے مقابلے میں 30 سے 35 روپے فی لیٹر اضافی بوجھ
31