🚨 وادی کاغان میں دلخراش سانحہ: سریا سے بھرا ڈمپر سیاحوں کی گاڑی پر الٹ گیا، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی

25

📍 مانسہرہ، خیبرپختونخوا: وادی کاغان کے سیاحتی مقام کیوائی واٹر فال کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے نے خوشیوں سے بھرے سفر کو چند لمحوں میں غم میں تبدیل کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سریا (لوہے کی سلاخوں) سے بھرا ایک ڈمپر بے قابو ہو کر ایک سیاحتی گاڑی پر الٹ گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہو گئے۔
💔 عینی شاہدین کے مطابق حادثہ انتہائی ہولناک تھا۔ ڈمپر کے الٹنے سے سیاحتی گاڑی بری طرح متاثر ہوئی اور گاڑی میں سوار افراد ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد اور مسافروں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں اور متاثرین کو نکالنے کی کوشش کی۔
🚑 ریسکیو 1122 مانسہرہ کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور فوری امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو بھی قانونی کارروائی کے لیے منتقل کیا گیا۔
🏥 ریسکیو ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم متاثرین کی تعداد، شناخت اور حادثے کی وجوہات کے حوالے سے باضابطہ تصدیق کا عمل جاری ہے۔
🔍 ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجوہات میں ڈمپر کا توازن بگڑ جانا، بریک فیل ہونا یا پہاڑی سڑک پر تیز رفتاری شامل ہو سکتی ہے، تاہم حتمی وجہ متعلقہ اداروں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
🗣️ ریسکیو حکام کا کہنا ہے:
“تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے امدادی کارروائیاں جاری رکھی گئی ہیں۔ متاثرین سے متعلق مکمل اور مصدقہ معلومات جلد جاری کی جائیں گی۔”
🌹 یہ افسوسناک سانحہ ایک بار پھر پہاڑی اور سیاحتی شاہراہوں پر احتیاط، رفتار کی پابندی، گاڑیوں کی فٹنس اور بھاری ٹریفک کے مؤثر انتظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر و استقامت کی دعا کریں۔
📌 ذرائع:
• ریسکیو 1122 مانسہرہ
• مقامی انتظامیہ
• علاقائی میڈیا رپورٹس





⚠️ دستبرداری: یہ خبر دستیاب سرکاری اور مقامی ذرائع کی بنیاد پر معلوماتی اور صحافتی مقاصد کے لیے شائع کی جا رہی ہے۔ متاثرین کی تعداد اور دیگر تفصیلات میں سرکاری تصدیق کے بعد تبدیلی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں