سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: اسکول زیادتی کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل.

3

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسکول میں 10 سالہ بچی سے زیادتی کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
⚖️ عدالت کا فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا:
سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا
3 لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھا گیا
6 ماہ اضافی قید کی سزا بھی برقرار رہے گی
متاثرہ بچی کو 1 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی قائم رکھا گیا
🏫 کیس کی نوعیت
یہ واقعہ شیخوپورہ کے ایک اسکول میں پیش آیا جہاں:
ایک سویپر نے 10 سالہ طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا
میڈیکل رپورٹ میں جسم پر زخموں اور زیادتی کے شواہد کی تصدیق ہوئی
📌 عدالت کے اہم ریمارکس
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا:
تعلیمی اداروں میں بچوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے
پولیس کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے باہر گشت بڑھانا چاہیے
ہراسانی کی شکایات پر فوری کارروائی ضروری ہے
🧪 شواہد سے متعلق رائے
عدالت نے واضح کیا کہ:
فارنزک میں سیمن نہ ملنا کیس کے خاتمے کی بنیاد نہیں
ایف آئی آر میں تاخیر ہمیشہ شک کا فائدہ نہیں دیتی
🏫 اسکول انتظامیہ پر تنقید
عدالت کے مطابق:
انتظامیہ نے واقعہ چھپانے کی کوشش کی
متاثرہ بچی کو بروقت طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی
تاخیر اور خاموشی نے صورتحال کو مزید سنگین بنایا
🚨 اہم ہدایت
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ:
وفاقی و صوبائی حکومتیں جدید میڈیکل لیگل سروسز قائم کریں
پولیس فوری اور مؤثر کارروائی یقینی بنائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں