وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو خط لکھ دیا۔
خط میں وزیر اعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے، کیونکہ وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے اور انضمام کا بیشتر مالی بوجھ خیبر پختونخوا اکیلے برداشت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی میں طے شدہ حصہ اب تک خیبر پختونخوا کو نہیں ملا، جبکہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی بھی متفقہ قرارداد کے ذریعے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے۔
ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے، سہیل آفریدی کا وزیرِ اعظم کو خط.
38