ایبٹ آباد: سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو شادی کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر لاکھوں روپے اور قیمتی سامان ہتھیانے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے ایک خاتون اور اس کے دو بیٹوں کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شہری محمد ریاض کی درخواست پر تھانہ میرپور میں مقدمہ نمبر 851/26 درج کیا گیا۔ مدعی کے مطابق ان کی ٹک ٹاک پر حویلیاں کی رہائشی کنول نامی خاتون سے دوستی ہوئی، جس نے بعد ازاں شادی کی خواہش ظاہر کی۔
شکایت کے مطابق اعتماد میں لے کر انہیں حویلیاں بلایا گیا، جہاں مبینہ طور پر لڑکی، اس کی بہن اور والدہ نے ایک وکیل کے دفتر میں نکاح کرایا۔ مدعی کا کہنا ہے کہ نکاح کے موقع پر انہوں نے 5 لاکھ روپے بطور حق مہر، ڈیڑھ تولہ سونا اور ایک قیمتی موبائل فون دیا۔
محمد ریاض کے مطابق نکاح کے بعد کھانے اور خریداری کے دوران جب وہ جدون پلازہ پہنچے تو مبینہ دلہن، اس کی والدہ اور بہن موقع سے فرار ہوگئیں اور اپنے موبائل فون بھی بند کر لیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے سادہ لوح افراد کو محبت اور شادی کا جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھنساتا اور بعد ازاں نقد رقم، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو جاتا ہے۔
پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471، 494 اور 496 کے تحت مقدمہ درج کرکے فرزانہ بی بی، اقراء بی بی، کنول بی بی، سیماں بی بی اور محمد حسنین سمیت پانچ ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔



پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستیوں اور شادی کے معاملات میں مکمل تصدیق کے بغیر کسی پر اعتماد نہ کریں، جبکہ عوامی حلقوں نے ایسے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
🟥 ایبٹ آباد: سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی شادی کا مبینہ فراڈ بے نقاب، لاکھوں روپے اور زیورات ہتھیانے والا گروہ سامنے آگیا.
25