ضلع مانسہرہ میں حالیہ دنوں میں کم عمر بچوں اور بچیوں کے خلاف جنسی جرائم میں حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے تمام والدین کو شدید تشویش اور تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعات نہ صرف معصوم بچوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ معاشرے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے سفاک ملزموں کو فوری ٹرائل کے ذریعے سزائے موت سنائیں، کیونکہ اس قسم کے سنگین جرائم میں کسی بھی قسم کی رعایت یا نرمی قابل قبول نہیں ہے۔ عوام کا موقف ہے کہ سخت سزائیں ہی مستقبل میں اس طرح کے واقعات پر روک لگا سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ والدین اور سماجی کارکنوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جو وکلاء ایسے سفاک مجرموں کا دفاع کرتے ہیں، ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے وکلاء بے گناہ بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو قانونی طور پر جواز فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جو قابل مذمت ہے۔
عوام نے انتظامیہ اور عدلیہ سے گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔