چارسدہ – چارسدہ میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ایک میٹر ریڈر کی بے حسی اور ناانصافی نے 80 سالہ بزرگ نور حسن کی جان لے لی۔ وہ اپنے بجلی کے بل اور جرمانے کے خلاف دفتر پہنچے تو عملے کی بے حسی نے انہیں موت کی نیند سلا دیا۔
نور حسن، ایک غریب ریٹائرڈ چوکیدار تھے جن کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ان کے گھر پر پچاس ہزار روپے کا بل اور جرمانہ بھیجا گیا، حالانکہ ان کے بھائیوں نے ترس کھا کر ان کے گھر پر ایک چھوٹا سا سولر پینل لگایا تھا تاکہ بجلی کا بل ان کے کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنے۔
ورثاء کا الزام ہے کہ میٹر ریڈر فیاض ان سے جرمانہ ختم کرنے کے بدلے رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا، جو بابا کی استطاعت سے باہر تھی۔
بدھ کی صبح بابا نور حسن جب اپنا بل کم کرانے پیسکو دفتر پہنچے تو وہاں مذکورہ میٹر ریڈر سے تکرار ہوئی اور اس دوران ایس ڈی او کے دفتر میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ پیسکو عملہ بابا کی مدد کرنے کے بجائے دفتر چھوڑ کر نکل گیا اور وہ 15 منٹ تک وہیں فرش پر تڑپتے رہے۔ جب لوگ اندر پہنچے تو بابا نور حسن کی روح پرواز کر چکی تھی۔
واقعے کے بعد ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو میٹر ریڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے، جس پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مصباح الدین اتمانی نے اس واقعے کے بعد حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیسکو کے آڈٹ اور بلنگ کے فرسودہ نظام کی مکمل اصلاح کریں تاکہ آئندہ کسی اور غریب کا بوڑھا باپ اس بے حسی کی بھیٹ نہ چڑھے۔
چارسدہ: بے حس میٹر ریڈر کی ناانصافی نے 80 سالہ بزرگ کی جان لے لی.
20