پشاور: آیت نور کیس میں بچی کی والدہ سے مبینہ طور پر نازیبا گفتگو اور کیس کی ناقص تفتیش سے متعلق شکایات کے بعد ایس پی ثمینہ ظفر کا ہنگو تبادلہ کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ سطح پر مزید کارروائی اور انکوائری کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ صرف تبادلے کے بجائے کیس کی تفتیش اور افسر کی سابقہ محکمانہ ترقیوں سے متعلق معاملات کا بھی شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق ایس پی ثمینہ ظفر کو ماضی کی حکومت کے دور میں مبینہ طور پر آؤٹ آف ٹرن پروموشنز دیے جانے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ مارچ 2023 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں ان کے اصل عہدے، ہیڈ کانسٹیبل، پر واپس کیے جانے کا ذکر بھی سامنے آتا ہے، جس کے بعد ان کا دوبارہ ایس پی کے عہدے تک پہنچنا بھی وضاحت طلب معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل محکمانہ انکوائری ہونی چاہیے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ افسر کو ماضی میں کن قواعد و ضوابط کے تحت ترقیاں دی گئیں اور بعد ازاں دوبارہ اعلیٰ عہدے پر تعیناتی کس قانونی و انتظامی طریقہ کار کے تحت ہوئی۔
دوسری جانب آیت نور کیس کی حساسیت کے پیش نظر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش صوبائی کرائم برانچ کے حوالے کی جائے، تاکہ تحقیقات کو غیر جانب دارانہ اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
حکام کی جانب سے ان معاملات پر باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوسکے گی۔
آیت نور کیس: ایس پی ثمینہ ظفر کا ہنگو تبادلہ، تفتیش پر سوالات اٹھ گئے.
29