اسلام آباد – عالمی مارکیٹ میں روز بروز بڑھتی تیل کی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے ملک بھر میں سمارٹ پٹرولیم لاک ڈاؤن لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری و نجی دفاتر، اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز ہفتے میں صرف چار روز کام کریں گے جبکہ باقی تین دن ادارے بند رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے 14 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس کے منٹس میں چار روزہ ورکنگ ویک اپنانے کا فیصلہ درج کیا گیا ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت:
· بعض ملازمین کو دفتری حاضری دی جائے گی
· دیگر عملے کو ورک فرام ہوم کی سہولت فراہم کی جائے گی
حکام نے تمام متعلقہ محکموں کو نئے شیڈول کی تیاری اور ضابطہ کار وضع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ حتمی سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد حاضری کا حتمی طریقہ کار واضح ہوگا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد ایندھن، بجلی اور انتظامی اخراجات میں کمی کے ذریعے قومی وسائل کی بچت کرنا ہے۔
اجلاس میں درج ذیل تجاویز بھی زیر غور آئیں:
· جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی
· بازاروں کی 3 روزہ بندش
· سرکاری ملازمین کے روٹیشن میں کام کا فارمولا
· 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کی تجویز
· غیر ضروری سفر میں کمی
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے اور ڈیزل میں 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد پٹرول 384 روپے 34 پیسے جبکہ ڈیزل 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
تاہم وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “نائب وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور نہیں آئی اور نہ ہی اسلام آباد بند ہونے جا رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کے معاملے پر بات ہوئی ہے اور تین مہینوں کے لیے تھری ویلر اور 800 سی سی گاڑی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے رپورٹ کی روشنی میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے اعلان کی صورت میں متوقع ہے۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن پر غور.
46