وزٹنگ لیکچرر ضرورت برائے ضرورت

67

*”وزٹنگ لیکچرر ضرورت برائے ضرورت”*
کسی بھی ملک کی ترقی میں اسکے تعلیمی نظام کا اہم کردار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے جب بھی اپنے ملک پاکستان کے تعلیمی نظام پہ بات کی جاتی ہے تو ایک ہی جملہ کہنے کو اور سننے کو ملتا ہے “پورا نظام ہی خراب ہے”۔ پھر یہ جملہ ہم سب کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ آخر نظام کیا ہے اور کون بناتا ہے؟ جواب ایک ہی نظر آتا ہم جیسے ہی “انسان”، سسٹم تو صرف ایک غیر مادی لفظ ہے۔
آج نظروں کے سامنے سے ایک پوسٹ گزری جس میں مختلف شعبوں میں ” وزٹنگ فیکلٹی” کے لیے پوسٹس کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے ہم ۳ سے ۴ ماہ پیچھے چلے گئے۔
اگست ۲۰۲۵ میں ایسے ہی گورنمنٹ کالجز میں مختلف شعبوں میں اساتذہ کی قلت کی بدولت سیٹس کا اعلان کیا گیا۔ ہم جیسے فریش گریجویٹس جو پرائیویٹ اداروں میں یہاں وہاں ٹکریں مار رہے تھے، سوچا قسمت آزمائی جائے۔ چند مہینے ہی سہی، پرائیویٹ اداروں سے تو جان چھوٹی رہے گی اور ایکسپیرینس بھی آ جائے گا۔
ہم جنھیں پرائیویٹ اداروں میں ایک چھٹی کے لئے دس دس باتیں سننی پڑتی ہیں، اپنے کاغذات جمع کرانے چھٹی کر کے اپنے شعبہ کے مطابق مختلف کالجز میں پہنچ گئے۔ جن ۲ کالجز میں ہم نے اپنے ڈاکومنٹس جمع کروائے، چند دنوں بعد دونوں کالجز کی لسٹ میں ہمارا نام انٹرویؤ کے لیے شارٹ لسٹ ہو گیا۔ نام دیکھ کر حوصله ہوا اور تیاری کے لیے اپنے بی-ایس کے ۸ سیمسٹرز کے ۸ رجسٹرز نکالے اور کھنگالنا شروع کیے۔ ایک جگہ انٹرویؤ ہوا تو یقین تھا کہ اچھا گیا، دوسری جگہ بھی خود کو منوا کر ہی آئے اور بےصبری سے نتائج کا انتظار کرتے رہے۔ چند دنوں میں میسیج موصول ہوا کہ آپکو وزٹنگ لیکچرر کی پوسٹ کے لیے سیلیکٹ کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ اداروں سے تھکے بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اپنے ادارے کو خوشی اور غم سے الوداع کیا۔ خوشی، ایک بہترین ادارے میں شامل ہونے کی اور غم، اِک اُستاد نے کہا تھا جدائی کے لمحے ہمیشہ اُداس کرتے ہیں۔
خیر ۱ ستمبر ۲۰۲۵ سے ہم نے اپنی زندگی میں وزٹنگ لیکچرر کا باب درج کیا۔ روز کچھ اچھا اور نیا سیکھنے کو مل رہا تھا لیکن ایک شاعر فرما گئے؛
“خوشیاں ہمارے پاس کہاں مستقل رہیں”
۸ ستمبر ۲۰۲۵ کو ہمیں ایک کاغذ تھمایا گیا کہ ہمارے پاس جس اُستاد کی کمی تھی وہ آ چکی ہیں، لہٰذا آپ اس پوسٹ سے ٹرمنیٹ کی جاتی ہیں۔
جب ہم نے سوال کرنا چاہا تو سارے رستے بند کر کے ایک جواب ملا یہ تو اصول ہے کہ جب مستقل اسٹاف ممبر آ جائے تو وزٹنگ لیکچرر کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس بات نے ہمیں گہری چوٹ دی، کل تک ہم آپکی ضرورت تھے اور آج ضرورت پوری ہوتے ہی ہمیں نکال باہر کیا گیا، اگر یہ سب ہم کرتے تو کیا کیا ہوتا؟ صرف سوچیں۔۔
فوج میں ایک کمانڈ دی جاتی ہے، “جیسے تھے”، جس کا مطلب ہے کہ جس پوزیشن میں آپ تھے واپس ویسے ہو جائیں۔ ہمیں بھی ہمارے تعلیمی نظام نے “جیسے تھے” والی کمانڈ دی اور آگے بڑھ گئے۔
ہم چاہے جتنا بھی کہہ دیں کہ تعلیمی نظام ایسا ہے ویسا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جب تک آپ اس نظام کی بہتری کے لیے کام نہیں کرتے۔ ہمارے نظام کی خرابیوں کو ہمیں ہی دیکھنا ہے، دنیا کو دکھانا ہےاور ٹھیک کرنا ہے۔
یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک نظام کی کمزوریاں ہیں جس میں ہم اپنی غلطی کو ٹھیک کرنے کے بجائے غلطیوں کو نظام کا حصہ بنا لیتے اور پھر کہتے پھرتے ہیں ” ہمارے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے ” اور یہ سب تب تک ہوتا رہے گا جب تک کوئی مسئلے کو مسئلہ نہ سمجھے۔ میری ہائر اتھارٹی سے التجا ہے کہ ادارے کے بہترین طلباء کو اس پوسٹ پہ، مختلف امتحانات سے گزار کر، وقت اور طاقت کا ضیاع کرنے کے بعد، اُسکو اتنی سیکیورٹی دی جائے کہ وہ اپنے ملک کے تعلیمی نظام سے کم سے کم نفرت نہ کرنے لگ جائے۔ اُسے اتنا حوصلہ دیا جائے کہ وہ غلط کو غلط کہہ کر ٹھیک کر سکے۔
مسئلے بتانے سے حل ہوں یا نہیں لیکن شعور ضرور دے جاتے ہیں۔
*رحاب رزاق*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں