صوبہ ھزارہ کس کےلیے کیوں ضروری ھے کوکیا فائدہ ھو گا ۔۔
صوبۂ ہزارہ: جغرافیہ، شناخت اور مستقبل کی نئی سمت
تحریر: نعیم اشرف
ترجمان صوبہ ہزارہ تحریک، سرپرست تحریکِ شناختِ ہزارہ
پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی بحث وقتاً فوقتاً سر اُٹھاتی رہی ہے، مگر ہزارہ ڈویژن کا معاملہ اپنی نوعیت میں ہمیشہ منفرد رہا ہے۔ اس خطے کے لیے صوبے کا مطالبہ محض کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس جغرافیائی حقیقت، معاشی ضرورت اور انتظامی تقاضوں کا قدرتی نتیجہ ہے۔ ہزارہ صدیوں سے ایک مربوط وحدت کے طور پر موجود ہے—پہاڑ، دریا، حجرہ بستیاں، گزرگاہیں اور وسائل اس خطے کو ایک ہی دھاگے میں پروئے رکھتے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنی روزمرہ زندگی، تجارتی روابط اور وسائل کے انحصار کے باعث دراصل ایک ہی انتظامی اکائی کے باشندے رہے ہیں۔ ایسے میں صوبہ ہزارہ کی تشکیل کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں، بلکہ ایک فطری عمل ہے جسے دیر سے پسِ پشت ڈالا گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہزارہ پاکستان کے لیے وسائل کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دریائے سندھ کی توانائی ہو یا کوہستان، بٹگرام، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے پہاڑوں میں چھپے جنگلات و معدنیات—یہ خطہ ملک کی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، مگر افسوس کہ اسی خطے کے عوام اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے آج بھی دوسروں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہیں۔ سوال یہی ہے کہ آخر وہ لوگ جو ملک کو بجلی فراہم کرتے ہیں، جو پانی کے ذخائر کے امین ہیں، جو معدنیات اور جنگلات کا سب سے قیمتی سرمایہ رکھتے ہیں… کیا وہ اپنی سڑکوں، اپنے ہسپتالوں، اپنی یونیورسٹیوں اور اپنے روزگار کے فیصلوں سے ہمیشہ دور رہیں گے؟ کیا مقامی اختیار کے بغیر حقیقی ترقی ممکن ہے؟. یہی پس منظر ہمیں بٹگرام، کوہستان اور تورغر جیسے اضلاع کی طرف متوجہ کرتا ہے—وہ علاقے جو اپنی جغرافیائی اہمیت، وسائل کی فراوانی اور محنت کش آبادی کے باوجود مسلسل انتظامی دوری کا شکار رہے۔ اگر ہزارہ کو صوبے کا درجہ ملتا ہے تو پہلی مرتبہ فیصلہ سازی ان علاقوں کے قریب آئے گی۔ وہ بجٹ جو پشاور کے ایوانوں میں کہیں گم ہو جاتا تھا، وہ ترجیحات جو مرکز سے ہزاروں فٹ بلندی پر واقع آبادیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی بے اثر ہو جاتی تھیں—اب وہ سب ہزارہ کے اندر طے ہوں گے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر اس خطے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اپنے اضلاع میں نئے محکمے، نئے سرکاری دفاتر، نئی آسامیاں، نئے تعلیمی ادارے اور مقامی سطح پر تکنیکی تربیت کے مراکز وجود میں آئیں گے۔ یہ نکتہ بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کسی لسانی تقسیم سے منسلک نہیں۔ ہزارہ ہمیشہ سے رنگارنگ گویائی کا حامل خطہ رہا ہے، مگر زبانیں بدلتی رہیں—پہاڑ اور دریائیں نہیں بدلے۔ بٹگرام سے کوہستان اور تورغر تک انسانی رشتے، معاشی زنجیریں، ثقافتی میلانات اور تاریخی وابستگیاں ہمیشہ ایک ہی وحدت کی خبر دیتی ہیں۔ اسی لیے ہزارہ کے نوجوان یہ حقیقت خوب سمجھتے ہیں کہ ترقی کی بنیاد زبان نہیں، وسائل پر اختیار ہے۔ بدقسمتی سے آج بعض عناصر زبان کا کارڈ کھیل کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ حقیقی سوالات پسِ پشت چلے جائیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ مستقبل سے نظریں چرانے کے مترادف بھی ہے۔ آج ہزارہ کے نوجوانوں، دانشوروں اور بزرگوں کو چاہیے کہ وہ ان جذباتی نعروں سے اوپر اٹھ کر فکری حقیقتوں کا ادراک کریں۔ ترقی کا راستہ اس وقت روشن ہوتا ہے جب سڑکیں محفوظ ہوں، ہسپتال جدید ہوں، یونیورسٹیاں فعال ہوں، اور روزگار مقامی سطح پر پیدا ہو۔ وہ کل جس کے خواب ہر والدین دیکھتے ہیں—ایک ایسا کل جب اس خطے کے بچے اپنے گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں، جب نوجوان ہجرت پر مجبور نہ ہوں، جب صنعتی زون اور معاشی سرگرمیاں مقامی معیشت کو مضبوط کریں—یہ کل اسی وقت ممکن ہے جب اس خطے کے وسائل کا اختیار اسی خطے کے عوام کے پاس ہو۔ حقیقت یہی ہے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام کوئی جذباتی مطالبہ نہیں بلکہ وہ انتظامی ضرورت ہے جسے مزید نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہ کم و بیش پچھتر لاکھ شہریوں کا اجتماعی مطالبہ ہے، ایک ایسا مطالبہ جس میں مستقبل کی سمت متعین کرنے کی طاقت موجود ہے۔ تاریخ ہمیشہ انہی فیصلوں کو معتبر مانتی ہے جو حقائق پر استوار ہوں—اور ہزارہ کی حقیقت یہی ہے کہ اب اسے اس کا جائز مقام ملنا چاہیے۔