مانسہرہ میں سنگین قانونی بحران! تھانہ پھلڑہ میں خاتون کی بے حرمتی، مسلح تشدد اور ایس ایچ او کی کھلی عدول حکمی انصاف کے حصول میں ناکامی پر متاثرہ خاندان نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا لیا؛ ڈی پی او سے فرائض سے روگردانی کرنے والے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ۔
ضلع مانسہرہ کی تحصیل پھلڑہ سے قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک شہری کے گھر میں مسلح ملزمان نے گھس کر شدید تشدد کیا اور ان کی اہلیہ کی سرعام بے حرمتی کی، جبکہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ مقامی پولیس نے ملزمان کے ساتھ قوم پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی رپورٹ درج کرنے سے صریحاً انکار کر دیا۔
متاثرہ شہری، سدھیر احمد، نے ریاستی اداروں سے مکمل مایوسی کے بعد اب ایڈیشنل سیشن جج / جسٹس آف پیس 6 کی عدالت میں آئینی دادرسی (زیر دفعہ 22A سی آر پی سی) کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ استدعا کی گئی ہے کہ نہ صرف مرکزی ملزمان بلکہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے تھانہ پھلڑہ کے ذمہ داران کے خلاف بھی فوری مقدمہ درج کیا جائے۔
دل دہلا دینے والے واقعہ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ مورخہ 05 دسمبر 2025 کو دن کے وقت، سدھیر احمد کے گھر میں شاہکوٹ سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان سید آصف شاہ، سید احمد شاہ، اور سید نوید شاہ کلاشنکوف، کلہاڑی اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر جبری طور پر داخل ہوئے۔
مسلح جارحیت ملزمان نے گھر کے مالک سدھیر احمد پر وحشیانہ تشدد کیا۔
خاتون کی عزت پر حملہ جب سدھیر احمد کی اہلیہ، کنزہ، نے مزاحمت کی کوشش کی، تو ملزم سید آصف شاہ نے نہایت توہین آمیز فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے ان کا دوپٹہ کھینچ کر سر ننگا کیا، انہیں بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹا اور پیٹ پر لاتیں ماریں۔ یہ فعل خواتین کی عزت و ناموس کے تحفظ کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
ملزمان نے جاتے ہوئے سابقہ رنجش کی بنا پر سدھیر احمد کو جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں دیں قانون کا استحصال اور پرواہ داری کا مظاہرہ گیا واقعہ کے بعد جب متاثرہ جوڑا قانونی دادرسی کے لیے تھانہ پھلڑہ پہنچا، تو انہیں قانون کی حکمرانی کے بجائے پولیس گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس آفیسر کے رپورٹ لکھنے سے انکار پر درخواست گزار کے مطابق، ایس ایچ او تھانہ پھلڑہ سید قائم علی شاہ اور محرر سید اعتزاز شاہ نے ملزمان کی برادری سے تعلق کی بنیاد پر کمپرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رپورٹ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا، جو کہ ان کی سرکاری ڈیوٹی سے انحراف ہے پولیس اہلکاروں کی بدسلوکی مزید افسوسناک طور پر، دونوں پولیس افسران نے متاثرین کو قانونی دادرسی فراہم کرنے کے بجائے انہیں ننگی گالیاں دیں، دھکے دیے، تھپڑ مارے اور تھانے سے زبردستی باہر نکال دیا۔
یہ عمل سائل کے بنیادی قانونی حق کو پامال کرنے کے مترادف ہے عدالت کا دروازہ اور سخت مطالبات کیے گئے مقامی پولیس کی کامل عدم تعاون کے بعد، سدھیر احمد نے اب عدالتی پناہ حاصل کر لی ہے۔ عدالت میں نہ صرف 05 دسمبر کے حملے، بلکہ 06 دسمبر 2025 کو ملزمان کی جانب سے ان کی بکری کو پتھر مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ کی بھی رپورٹ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سدھیر احمد کے ڈی پی او مانسہرہ اور اعلیٰ حکام سے کلیدی مطالبات درج ذیل ہیں فوری مقدمہ کا اندراج تینوں ملزمان کے خلاف ناجائز داخلہ، مسلح تشدد، خاتون کی بے حرمتی، اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کی دفعات کے تحت بلاتاخیر ایف آئی آر درج کی جائے۔
پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی: ایس ایچ او سید قائم علی شاہ اور محرر سید اعتزاز شاہ کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، فرائض سے روگردانی، بدسلوکی، اور کمپرستی کی بنا پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر قانونی کارروائی کی جائے۔میڈیکل معائنہ سدھیر احمد اور ان کی اہلیہ کا فوری میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) جاری کرنے کے لیے معائنہ یقینی بنایا جائے پولیس افسر کا متنازع ریکارڈ ذرائع کے مطابق، ایس ایچ او تھانہ پھلڑہ سید قائم علی شاہ کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر حال ہی میں پولیس لائن حاضر کر دیا گیا تھا۔
مزید برآں، یہ انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او کو حال ہی میں ایڈیشنل سیشن جج 6 نے ایک افغان شہری کی درخواست میں لوٹ مار، تشدد، رشوت طلبی، اور بوگس ایف آئی آر درج کرنے جیسے سنگین الزامات پر طلب کیا تھا۔ وہ دیگر عدالتوں بشمول پشاور ہائی کورٹ بینچ میں بھی متعدد کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ پس منظر ان کے موجودہ رویے کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے وائرل نیوز آف پاکستان کے سپیشل رپورٹر، اکرام قریشی، نے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، بشمول آئی جی پی خیبر پختونخوا، سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین واقعہ کا نوٹس لیں۔ شہری کی جان، مال اور عزت کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر اور آئین شکنی کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ریاست میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے ۔