مانسہرہ میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن آج سے شروع

82

مانسہرہ میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن آج سے شروع، دکانیں اور مکانات سیل، گرفتاریاں اور ڈیپورٹیشن کا عمل تیز ضلعی انتظامیہ مانسہرہ نے آج سے افغان مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر مانسہرہ میاں بہزاد عادل کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر افغان ریفیوجز محمد علی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، محکمہ مال اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج ے مانسہرہ بھر میں افغان مہاجرین کی کرایہ پر لی گئی تمام دکانیں اور مکانات سیل کیے جائیں گے۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو گرفتار کرکے فوری طور پر ڈیپورٹ کیا جائے گا۔

حکومتی فیصلے کے مطابق 11 دسمبر تک تمام غیر قانونی افغان مہاجرین کو ازخود واپس جانے کی مہلت دی گئی تھی، تاہم اب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری مانسہرہ کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق تقریباً 700 خاندان اب تک واپس جا چکے ہیں، جبکہ شہر اور گردونواح میں تقریباً ایک ہزار کے قریب دکانیں افغان شہریوں کے قبضے یا کرایے پر موجود ہیں، جنہیں آج سیل کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

ضلعی انتظامیہ، افغان ریفیوجیز ڈیپارٹمنٹ کے ایڈمنسٹریٹر محمد علی خان اور مانسہرہ پولیس کے اشتراک سے آج صبح بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر رہی ہے۔ کارروائی کے دوران شریاں، شنکیاری، بفہ، خاکی، برکون، بالاکوٹ، گاڑی حبیب اللہ، بٹن 76 اور دیگر علاقوں میں موجود افغان مہاجرین کو بھی گرفتار کرکے بارڈر تک پہنچایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ مال نے ان تمام دکانوں، مکانات، ہوٹلوں اور عمارتوں کا مکمل ڈیٹا تیار کرکے حکومت کو ارسال کردیا ہے، جنہیں مقامی مالکان نے افغان باشندوں کے نام کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ ان مالکان کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز آج سے متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں