لاہور کی ایک معزز عدالت نے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات

22

لاہور کی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ: پولیس بغیر عدالتی اجازت شہریوں کا موبائل فون چیک نہیں کر سکتی ، پرائیویسی کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول قرار
لاہور کی ایک معزز عدالت نے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کو واضح حد بندیوں کا پابند بنا دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج لاہور، شفقت راجہ نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا ہے کہ پولیس کسی بھی شہری کا موبائل فون ، اس میں موجود ڈیٹا ، پیغامات ، تصاویر یا سوشل میڈیا مواد عدالت کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چیک نہیں کر سکتی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شہریوں کی نجی زندگی کا تحفظ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت ایک ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق ہے ، جبکہ اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ان آئینی حقوق کو پامال کرنے کے مجاز نہیں اور کسی بھی شہری کی ڈیجیٹل تلاشی صرف قانونی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج شفقت راجہ نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ بغیر عدالتی اجازت موبائل فون چیک کرنا غیر قانونی عمل تصور ہوگا ، اور ایسی کسی بھی کارروائی میں ملوث افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ شہریوں کو ہراساں کرنے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف شہریوں کے ڈیجیٹل پرائیویسی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ آئین اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پولیس کی کارروائیوں میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔
عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل دور میں شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں