کمشنر ہزارہ کی زیرِ صدارت غیر ملکیوں کی وطن واپسی سے متعلق اجلاس، فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایات
ایبٹ آباد: کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت آج کمشنر ہاؤس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آر پی او ہزارہ، ڈائریکٹر آئی بی، ڈپٹی کمشنرز ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور اور بٹگرام، جبکہ سپیشل برانچ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع میں غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ غیر ملکیوں کی واپسی کے لیے سیکٹر وائز جامع شیڈول فوری طور پر تیار کیا جائے اور اس پر بلا تاخیر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ افغان باشندوں کے عمائدین سے رابطہ کر کے انہیں حکومتِ پاکستان کی واضح پالیسی سے دوبارہ آگاہ کیا جائے کہ تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو اپنے وطن واپس جانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ واپسی کا عمل عزت و احترام کے ساتھ مکمل کیا جائے گا اور اس دوران تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ تاہم، اجلاس میں یہ بھی دوٹوک الفاظ میں بتایا گیا کہ ہدایات کے باوجود عدم تعاون کی صورت میں فارن ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے گی۔خصوصی طور پر مانسہرہ اور ہری پور کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں کہ کیمپس میں مقیم افراد اور دیگر علاقوں میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے خلاف یکساں طور پر واپسی مہم شروع کی جائے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلداران کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں تاکہ عمل کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔کمشنر ہزارہ نے مزید ہدایت کی کہ واپسی کے عمل میں کسی قسم کی ہیل حجت یا بہانے کو ہرگز قبول نہ کیا جائے اور غیر قانونی غیر ملکیوں کو مکان یا رہائش فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر ہزارہ نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور یہ عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔