اجلاس کی تفصیلات:
اس اجلاس میں صوبے بھر میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، انتظامی امور، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں بی ایچ یوز (Basic Health Units) اور آر ایچ سیز (Rural Health Centers) کی کارکردگی، انسانی وسائل، طبی آلات اور سہولیات کی دستیابی کا جامع جائزہ لیا گیا۔
اہم نکات:
صوبے کے مختلف اضلاع میں صحت کے مراکز کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
طبی عملے کی کمی، آلات کی عدم دستیابی اور دیگر انتظامی مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔
اجلاس میں یہ بات واضح کی گئی کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے ہدایات:
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر احتشام علی خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
محکمہ صحت کی کارکردگی میں بہتری کے لیے غفلت اور کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گ
تمام افسران اور عملے کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی۔
جہاں کہیں بھی بدانتظامی، لاپرواہی یا غفلت پائی گئی، وہاں سخت جوابدہی یقینی بنائی جائے گی۔
نظام صحت میں بہتری کے لیے اصلاحات پر تیزی سے عمل جاری ہے تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس کا مقصد:
اس اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے میں صحت کے نظام کو مؤثر بنانا، عوامی مسائل کا بروقت حل نکالنا اور سرکاری صحت مراکز میں سہولیات کی بہتری کو یقینی بنانا تھا۔
یہ اجلاس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا صحت کے شعبے میں اصلاحات اور بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور عوامی فلاح کو ترجیح دی جا رہی ہے۔