
ملاقات کے دوران درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی گئی:
قومی امن کی صورتحال:
وزیراعظم نے ملک میں موجودہ سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور امن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے عوام کی حفاظت اور دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے مربوط اقدامات کر رہے ہیں۔
قومی امن کمیٹی کا کردار:
اجلاس میں قومی امن کمیٹی کے ارکان نے اپنے خیالات اور سفارشات پیش کیں کہ کس طرح مقامی سطح پر امن قائم کیا جا سکتا ہے اور کس طرح مختلف سماجی اور سیاسی دھڑوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔
سکیورٹی اقدامات:
وزیراعظم نے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور دہشت گرد عناصر کی بروقت نشاندہی کرنے پر زور دیا۔
عوامی شعور اور تعاون:
وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی قومی امن میں اپنا کردار ادا کریں، مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں اور فرقہ وارانہ یا سیاسی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔
آئندہ کے لائحہ عمل:
اجلاس کے آخر میں وزیراعظم نے کمیٹی کے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ اپنی سفارشات جلد از جلد عملی اقدامات میں تبدیل کریں، تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
خلاصہ:
یہ ملاقات نہ صرف ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی عندیہ ہے کہ حکومت اور قومی امن کمیٹی مل کر دہشت گردی اور فرقہ واریت جیسے مسائل کا مؤثر حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔