حکومتِ خیبر پختونخوا کے فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد سال 2026 کے لیے گندم کی ریلیز پالیسی جاری کر دی ہے

39

پشاور:
حکومتِ خیبر پختونخوا کے فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد سال 2026 کے لیے گندم کی ریلیز پالیسی جاری کر دی ہے، جس کا مقصد صوبے بھر میں آٹے اور گندم کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
محکمہ خوراک کے مطابق اس پالیسی کے تحت مجموعی طور پر 1 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم صوبے کی فعال فلور ملز کو فراہم کی جائے گی، جو فوڈ گرین گودامز میں موجود ذخیرے کا تقریباً 50 فیصد بنتی ہے۔ جاری کی جانے والی گندم میں 61 ہزار 811 میٹرک ٹن پاسکو (مقامی/انڈیجنس) جبکہ 74 ہزار 189 میٹرک ٹن مقامی سطح پر خریدی گئی گندم شامل ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ گندم کی تقسیم فرسٹ اِن، فرسٹ آؤٹ (FIFO) اصول کے تحت کی جائے گی، تاکہ شفاف اور منصفانہ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے گندم کی سرکاری ریلیز قیمت 10 ہزار 414 روپے فی 100 کلوگرام مقرر کی ہے، جس میں باردانہ کی لاگت بھی شامل ہے۔ اس کے تحت فلور ملز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے مقررہ نرخوں پر فراہم کریں، جن میں
ایکس مل قیمت: 2190 روپے
ریٹیل قیمت: 2220 روپے شامل ہے۔
محکمہ خوراک نے فلور ملز کو یہ بھی پابند کیا ہے کہ آٹے کے تھیلوں پر سبز رنگ کا سرکاری مونوگرام واضح طور پر اسٹینسل کریں اور منظور شدہ قیمت نمایاں انداز میں درج کریں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گندم حاصل کرنے والی تمام فلور ملز کو یومیہ بنیاد پر رپورٹ جمع کرانا لازمی ہوگا، جس میں وصول شدہ گندم، پسائی گئی مقدار اور تیار شدہ آٹے کی مکمل تفصیل شامل ہوگی۔ رپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ فلور ملز کو آئندہ سرکاری گندم کی فراہمی سے محروم کر دیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے صوبے بھر میں آٹے کی دستیابی میں بہتری آئے گی اور عوام کو مقررہ سرکاری نرخوں پر آٹا فراہم کرنا ممکن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں