ضلع مانسہرہ میں حکومتی رِٹ کو چیلنج کرنے کے نئے طریقے سامنے آ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض افغانی شہریوں نے دکانیں خالی کرنے کے بجائے دکان مالکان کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے اپنے پاکستانی ملازمین کے نام پر جعلی اسٹامپ پیپر پر کرایہ داری کے معاہدے تیار کرانے شروع کر دیے ہیں، تاکہ حکومتی احکامات سے بچا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جعلی معاہدوں کے ذریعے دکانوں کی ملکیت اور کرایہ داری کی صورتحال کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر مانسہرہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی تحریریں تیار کرنے اور کرانے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو حکومتی رِٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔